مجھ سے پہلی سے محبت مری محبوب نہ مانگ ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label poetry. Show all posts
Showing posts with label poetry. Show all posts
Saturday, February 13, 2016
Sunday, January 3, 2016
خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
منصف ہواگر تم تو کب انصاف کروگے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے
کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
(احمد فراز)
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے ہم
بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح
سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے
ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے
تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا
بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا
ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے
نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں
انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار
پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل
وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ
ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو
شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں
(احمد فراز)
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
آنکھ سے دور نہ ہو دل
سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے، گزرتا
ہے، گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ
غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی
دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تم سرِ راہِ وفا دیکھتے
رہ جاؤگے
اور وہ بامِ رفاقت سے
اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو
یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پر
دھر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو
اچھالا دے دوں
میں نہیں، کوئی تو ساحل
پہ اتر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے
قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے
گا تو مرجائے گا
(احمد فراز)
Sunday, December 13, 2015
کیا ہے عشق تو شکوہ نہ کر زمانے کا
کیا ہے عشق تو شکوہ نہ کر زمانے کا
بیاں ہوا تو گیا حسن اس فسانے کا
سزا کےطور پر ہم کو ملا قفس جالب
بہت تھا شوق ہمیں آشیاں بنانے کا
(حبیب جالب)
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں
دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا
اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں
دیکھا
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں
دیکھا
کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی
لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں
دیکھا
کس طرح مری روح ہری کرگیا آخر
وہ زیر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا
Friday, December 11, 2015
قطعات (جون ایلیا)
ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
کرکے اک دوسرے سے عہد وفا
آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیرے خواب و
خیال
متاع جاں ہیں ترے قول و قسم کی طرح
گزشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا
تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحنِ گل چھوڑ گیا، دل مرا پاگل نکلا
جب اُسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ
ملا
دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل
نکلا
اک ملاقات تھی جو دل کو سدا یاد رہی
ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اک پل نکلا
وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے
اتنے روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل
نکلا
ہم سکون ڈھونڈنے نکلے تھے پریشان رہے
شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا
کون ایوب پریشان نہیں تاریکی میں
چاند افلاک پہ، دل سینے میں بے کل
نکلا
Wednesday, December 9, 2015
یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں
یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ
نگاہیں
آخر تم ہی بتاؤ کیونکر نہ
تم کو چاہیں
اب سر اٹھا کے میں نے شکوؤں
سے ہاتھ اٹھایا
مرجاؤں گا ستم گر نیچی نہ
کر نگاہیں
کچھ گل ہی سے نہیں ہے روح
نمو کو رغبت
گردن میں خار کی بھی ڈالے
ہوئے ہے بانہیں
اللہ ری دل فریبی جلووں کے
بانکپن کی
محفل میں وہ جو آئے کج
ہوگئیں کلاہیں
یہ بزم جوش کس کے جلووں کی
رہ گزر ہے
ہر ذرے میں ہیں غلطاں اٹھتی
ہوئی نگاہیں
(جوش ملیح آبادی)
Monday, December 7, 2015
Thursday, December 3, 2015
میں عرصۂ دراز سے خود میں اسیر ہوں
میں عرصۂ دراز سے خود میں اسیر ہوں
تنہائیوں کی قید سے اب تو رہائی دے
ایسا نہ ہو انا میں گزر جائے زندگی
پھر سے تو میرے ہاتھ میں دستِ حنائی
دے
کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں
کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے
میں
کہ چند سانس بھی آئے نہ اپنے حصے میں
وہ ایک ایسے سمندر کے روپ میں آیا
کہ عمر کٹ گئی جس کو عبور کرنے میں
مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ
یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں
ملی تو ہے مری تنہائیوں کو آزادی
جڑی ہوئی ہیں کچھ آنکھیں مگر دریچے
میں
غنیم بھی کوئی مجھ کو نظر نہیں آتا
گھرا ہوا بھی ہوں چاروں طرف سے خطرے
میں
مرا شعور بھی شاید وہ طفل کمسن ہے
بچھڑ گیا ہے جو گمراہیوں کے میلے میں
ہنر ہے شاعری شطرنج شوق ہے میرا
یہ جائیداد مظفر ملی ہے ورثے میں
Wednesday, December 2, 2015
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
ٹھانی تھی دل میں اب نہ
ملیں گے کسی سے ہم
پر کیا کریں کہ ہوگئے ناچار
جی سے ہم
ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو
کسی سے ہم
منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس
بیکسی سے ہم
ہم سے نہ بولو تم اسے کیا
کہتے ہیں بھلا
انصاف کیجئے پوچھتے ہیں آپ
ہی سے ہم
بے زار جان سے جو نہ ہوتے
تو مانگتے
شاہد شکایتوں پہ تری مدعی
سے ہم
اس کو میں جا مریں گے مدد
اے ہجوم شوق
آج اور زور کرتے ہیں بے
طاقتی سے ہم
صاحب نے اس غلام کو آزاد
کردیا
لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی
سے ہم
بے روئے مثل ابر نہ نکلا
غبار دل
کہتے تھے ان کو برق تبسم
ہنسی سے ہم
ان ناتوانیوں پہ بھی تھے
خار راہ غیر
کیوں کر نکالے جاتے نہ اس
کی گلی سے ہم
کیا گل کھلے گا دیکھئے، ہے
فصل گل تو دور
اور سوئے دشت بھاگتے ہیں
کچھ ابھی سے ہم
منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس
دن وہ صاف تھا
بے وجہ کیوں غبار رکھیں
آرسی سے ہم
ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں
کے سامنے
ہنسنے کے بدلے روئیں نہ
کیوں گدگدی سے ہم
وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں
دم بکا
منہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشم
پری سے ہم
کیا دل کو لے گیا کوئی
بیگانہ آشنا
کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں
کچھ اجنبی سے ہم
لے نام آرزو کا تو دل کو
نکال لیں
مومن نہ ہوں جو ربط رکھیں
بدعتی سے ہم
Tuesday, December 1, 2015
دسمبر اور جدائی
دسمبر اور جدائی کا
بڑا نزدیکی سمبندھ ہے
زرد رات آکے رہتی ہے
محبت جاکے رہتی ہے
اداسی کے سمندر میں
یہ دل ڈوب جاتا ہے
آنسو بہت بہتے ہیں
ہم چپ چاپ رہتے ہیں
چمپا کے دل کے داغوں کو
ہنس کے یہ ہی کہتے ہیں
نیا جو سال آئے گا
بڑی رونق لگائے گا
جو کہ ہو نہیں پاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید
کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول
کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں
وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے
خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں
شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو
شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ میرا عشق
فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں
اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پر کھینچے گئے
جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو
نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں، نہ وہ تُو
ہے، نہ وہ ماضہ ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں
میں ملیں
Sunday, November 15, 2015
رلاتی ہے مجھے راتوں کی خاموشی ستاروں کی
رلاتی ہے مجھے راتوں کی خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے لالے ہیں
نہ پوچھو مجھ سے لذتِ خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں
ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)




















