Showing posts with label john elia poetry. Show all posts
Showing posts with label john elia poetry. Show all posts

Friday, December 11, 2015

قطعات (جون ایلیا)

ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
کرکے اک دوسرے سے عہد وفا
آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال
متاع جاں ہیں ترے قول و قسم کی طرح
گزشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا

کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

qattaat, urdu poetry, urdu qattaat, john elia poetry


Sunday, November 8, 2015

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
رنگ موسم ہے اور باد صبا
شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

(جون ایلیا)

john elia poetry, poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں

(جون ایلیا)
poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, jhon elia poetry


Tuesday, August 25, 2015

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جاسکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آتی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے
اس سے کہو کہ دل کی گلیوں میں
رات دنتیری انتظاری ہے
ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے
خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امیدواری ہے

(جون ایلیا)


Sunday, July 26, 2015

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی!!
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی!!
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر میرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کررہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی



Wednesday, June 3, 2015

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں

(جون ایلیا)

Tuesday, April 28, 2015

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

(جون ایلیا)


Sponsored