ناصر کاظمی کے یوم پیدائش پر ان کی مشہور غزلیں
Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label nasir kazmi ghazal. Show all posts
Showing posts with label nasir kazmi ghazal. Show all posts
Monday, December 7, 2015
Tuesday, August 11, 2015
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
دیارِ دل کی رات میں چراغ
سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل
تو دکھا گیا
وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ
دشمناں ہوئی
وہ جھوٹی جھوٹی رنجشوں کا
لطف بھی چلا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی
نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آگئی مجھے
بھی صبر آگیا
پکارتی ہیں فرصتیں کہاں
گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی ہیں انہیں کہ
آسماں کھا گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر
کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں
میں کہاں چلا گیا
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں
کو نیند آگئی
وہ لہر کس طرف گئی یہ میں
کہاں سما گیا
گئے دنوں کی لاش پر پڑے
رہوگے کب تلک
الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر
پہ آگیا
(ناصر کاظمی)
Thursday, April 9, 2015
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے عالمِ حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
آنکھوں میں ڈھل گئی تیری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ بھی یہ قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
(ناصر کاظمی)
Subscribe to:
Posts (Atom)


