Showing posts with label nasir kazmi poetry. Show all posts
Showing posts with label nasir kazmi poetry. Show all posts

Monday, December 7, 2015

Wednesday, December 2, 2015

Thursday, September 10, 2015

Wednesday, September 9, 2015

کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لئے

آیا ہی تھا ابھی میرے لب پر وفا کا نام
کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لئے

(ناصر کاظمی)


Sunday, August 30, 2015

امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجئے ناصر

امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجئے ناصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے

(ناصر کاظمی)


Tuesday, August 11, 2015

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی
وہ جھوٹی جھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آگئی مجھے بھی صبر آگیا
پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی ہیں انہیں کہ آسماں کھا گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آگئی
وہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا
گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک
الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا

(ناصر کاظمی)


Monday, August 10, 2015

اب کے سال پونم میں

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے شوخ تیرے قدموں پہ، ہم نگاہوں سے تیری آرتی اتاریں گے
تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے، زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو
پست حوصلے والے تیرا ساتھ کیا دیں گے، زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے، انگلیوں سے جو ٹپکے اس لہو کی حاجت ہے
آپ زلف جاناں کے خم سنواریئے صاحب، زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے
ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیزگام گھڑیاں ہیں، بے قرار لمحے ہیں، بے تکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہیں آئے، جو ملے گا رستے میں، ہم اسے پکاریں گے

(ناصر کاظمی)


Wednesday, July 22, 2015

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی
آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
ہوش اڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری ہستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی
گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا
اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی
لیے جاتی ہیں کسی دھیان کی لہریں ناصر
دور تک سلسلۂ تاکِ طرب ہے کوئی

(ناصر کاظمی)


Monday, January 26, 2015

naye kapray badal kar jaoon kahan

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لئے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لئے
جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی ہلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لئے
وہ شہر میں تھا تو اس کے لئے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لئے
اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں
ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لئے
مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لئے

urdu poetry, poetry, ghazal, urdu ghazal, nasir kazmi poetry, naye kapray badal kar jaoon kahan





Sunday, January 25, 2015

aaya hi tha abhi meray lab per wafa ka naam

آیا ہی تھا ابھی میرے لب پر وفا کا نامکچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھالیئے(ناصر کاظمی)



urdu poetry, poetry, ghazal, urdu ghazal, nasir kazmi poetry, aaya hi tha abhi meray lab per wafa ka naam

Sponsored