Showing posts with label nasir kazmi. Show all posts
Showing posts with label nasir kazmi. Show all posts

Thursday, April 9, 2015

اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے عالمِ حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
آنکھوں میں ڈھل گئی تیری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ بھی یہ قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

(ناصر کاظمی)


Thursday, April 2, 2015

خبر نہیں وہ مرے ہمسفر کہاں پہنچے

خبر نہیں وہ مرے ہمسفر کہاں پہنچے
کہ رہگزر تو میرے ساتھ ہی پلٹ آئی

(ناصر کاظمی)


Sponsored