Showing posts with label faiz ahmed faiz poetry. Show all posts
Showing posts with label faiz ahmed faiz poetry. Show all posts

Sunday, November 15, 2015

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں
ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں


poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, faiz ahmed faiz poetry

Wednesday, September 30, 2015

سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے

ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے

(فیض احمد فیض)


Friday, August 28, 2015

gham-e-ishq kitna ajeeb hay

غم عشق کتنا عجیب ہے
یہ جنون سے کتنا قریب ہے
کبھی اشک پلکوں پہ رک گئے
کبھی پورا دریا بہا دیا

(فیض احمد فیض)


Friday, August 14, 2015

نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں

نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے

(فیض احمد فیض)


Friday, June 12, 2015

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے



Saturday, May 30, 2015

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹادیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکادیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلادیا
اُدھر ایک حرف کے کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اڑادیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹادیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا

(فیض احمد فیض)


Friday, May 8, 2015

کب ٹھہرے گا درد

کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہوگی



Tuesday, May 5, 2015

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کئے، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبحِ وصال کا، کئی شام ہجر کی مدتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا، تو رہے گا دامنِ دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں، نہ کسی صنم کی مروتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم، جو بچا ہے مقتلِ شہر میں
یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں، یہ ہیں اہلِ صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر، کہ نہ جانے کاتبِ وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر، کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں
(فیض احمد فیض)


Monday, April 27, 2015

اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر

سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں

(فیض احمد فیض)


Monday, January 26, 2015

dasht-e-tanhai main aye jan-e-jahan larzan hain


دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں، تیرے پہلو کے سمن اور گلاب
اٹھ رہی ہے کہیں قرب سے تیری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گررہی ہے تیری دلدار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے، اسے جان جہاں، رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات

(فیض احمد فیض)
urdu poetry, poetry, ghazal, urdu ghazal, faiz ahmed faiz poetry, dasht-e-tanhai main aye jan-e-jahan larza hain

http://www.urduinc.com/urdu-poetry

Sponsored