مجھ سے پہلی سے محبت مری محبوب نہ مانگ ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label faiz ahmed faiz poetry. Show all posts
Showing posts with label faiz ahmed faiz poetry. Show all posts
Saturday, February 13, 2016
Sunday, November 15, 2015
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں
ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں
Friday, October 2, 2015
Wednesday, September 30, 2015
سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے
(فیض احمد فیض)
Friday, August 28, 2015
gham-e-ishq kitna ajeeb hay
غم عشق کتنا عجیب ہے
یہ جنون سے کتنا قریب ہے
کبھی اشک پلکوں پہ رک گئے
کبھی پورا دریا بہا دیا
(فیض احمد فیض)
Friday, August 14, 2015
نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے
(فیض احمد فیض)
Friday, June 12, 2015
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
Saturday, May 30, 2015
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹادیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکادیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ
ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلادیا
اُدھر ایک حرف کے کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا
گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اڑادیا، جو لکھا تو پڑھ کے
مٹادیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے
گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا
(فیض احمد فیض)
Friday, May 8, 2015
Tuesday, May 5, 2015
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا،
سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں،
کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کئے،
یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبحِ وصال کا،
کئی شام ہجر کی مدتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا،
تو رہے گا دامنِ دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں، نہ
کسی صنم کی مروتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم،
جو بچا ہے مقتلِ شہر میں
یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں،
یہ ہیں اہلِ صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر،
کہ نہ جانے کاتبِ وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول
کر، کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں
(فیض احمد فیض)
Monday, April 27, 2015
اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں
(فیض احمد فیض)
Monday, January 26, 2015
dasht-e-tanhai main aye jan-e-jahan larzan hain
دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں، تیرے پہلو کے سمن اور گلاب
اٹھ رہی ہے کہیں قرب سے تیری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گررہی ہے تیری دلدار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے، اسے جان جہاں، رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات
(فیض
احمد فیض)
http://www.urduinc.com/urdu-poetry
Subscribe to:
Posts (Atom)












