Showing posts with label jo rukay to koh-e-giraN thay hum. Show all posts
Showing posts with label jo rukay to koh-e-giraN thay hum. Show all posts

Thursday, November 5, 2015

محبت


محبت چہروں اور آوازوں سے تھوڑی کی جاتی ہے۔ محبت تو روح سے کی جاتی ہے، دل سے کی جاتی ہے، انسان سے کی جاتی ہے، اس کی خوبیوں سے کی جاتی ہے۔ محبت انسان کی غیر مرئی خصوصیات سے کی جاتی ہے۔ محبت ظاہری چیزوں سے نہیں کی جاتی ہے کیونکہ یہ سدا رہنے والی چیزیں نہیں ہوتیں، یہ تو کبھی بھی کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔

(عنیزہ سید کے ناول ’’جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم‘‘ سے اقتباس)

urdu iqtibas, unaiza sayed iqtibas, jo rukay to koh-e-giran thay hum iqtibas

Saturday, May 30, 2015

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹادیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکادیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلادیا
اُدھر ایک حرف کے کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اڑادیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹادیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا

(فیض احمد فیض)


Sponsored