’’ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی
محبت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے۔ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز
نافرمانی ہوتی ہے۔ لوگ اس کی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں مگر کیا وہ انہیں
روزی دینا بند کردیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کیا اناج کا قحط پڑجاتا ہے؟
نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ خدا جب بھی کسی چیز کو واضح
کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں جنت و
جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے مگر جب بات آتی ہے بنی
انسان سے محبت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے
والا ہوں۔ اللہ کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبت، بھائی کی محبت، بہن کی محبت،
بیوی کی محبت، دوستوں، قرابت داروں کی محبت سے اپنی محبت کا موازنہ کرتا مگر نہیں
، اس نے ماں کی مثال دی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل
اعتبار محبت ماں کی ہے۔‘‘
Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label iqtibas. Show all posts
Showing posts with label iqtibas. Show all posts
Sunday, December 13, 2015
Friday, December 11, 2015
خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف
خواتین و حضرات ! گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا، اس نے پنکچر چیک کرنے والے
ٹب سے ہاتھ گیلے کئے اور ویسے ہی جاکر کھانا کھانا شروع کردیا۔
میں نے اس سے کہا کہ ’’اللہ کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑجاؤ گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔ کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں۔‘‘
تو اس نے جواب دیا کہ ’’صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بخود مرجاتے ہیں اور جب بسم اللہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہوجاتی ہے۔‘‘
مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے۔
(از اشفاق احمد ۔ زاویہ ۳ ’’ خدا سے زیادہ جراثیموںکا خوف‘‘ سے اقتباس)
میں نے اس سے کہا کہ ’’اللہ کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑجاؤ گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔ کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں۔‘‘
تو اس نے جواب دیا کہ ’’صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بخود مرجاتے ہیں اور جب بسم اللہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہوجاتی ہے۔‘‘
مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے۔
(از اشفاق احمد ۔ زاویہ ۳ ’’ خدا سے زیادہ جراثیموںکا خوف‘‘ سے اقتباس)
Wednesday, December 9, 2015
عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس
بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی
ضرورت نہیں ہوتی، صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی
ہو، جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی
سے ہر گھاؤ کو سی دے۔
(عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ
پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس)
Monday, December 7, 2015
Thursday, December 3, 2015
حاصل اور لاحاصل
کیا وجود انسانی اتنا ارزاں ہے کہ اس کو یونہی ضائع ہونے دیا جائے ۔۔۔۔۔ جب
انسان کا وجود تخلیق ہوتا ہے تو کن کن پردوں میں اور کہاں کہاں خدا اس کی حفاظت
کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ کہاں سے خوراک اور کہاں سے
سانسیں اس کو بہم پہنچاتا ہے ۔۔۔۔۔ اور جب انسان باشعور ہوتا ہے تو خود ہی اپنے
آپ کو مارنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ اس وقت خدا کیا کرے۔ وہ تو یہی سوچتا ہے کہ جب تم
میرے پر انحصار کرتے تھے تو میں نے کس طرح تمہیں حفاظت سے رکھا۔ اب اپنی سوچوں اور
خواہشات پر انحصار کرتے ہو تو کہاں بھٹکے چلے جاتے ہو ۔۔۔۔۔ تم کیا بن گئے ہو؟
میں تو صرف یہی کہوں گی ۔۔۔۔۔ کہیں نہ دیکھو۔۔۔۔۔ کسی کے بارے میں نہ
سوچو۔۔۔۔۔۔ صرف اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔ اگر نظر صحیح ہوگی اور زاویہ
درست ہوگا تو اک جہاں نظر آئے گا، پوری طرح روشن، اس خاکی جہاں سے ماورا۔ ویسا ہی
جیسی تمہاری سوچ ہوگی ۔۔۔۔۔ ایسا جیسا تم سمجھوگی، سب سے مختلف۔۔۔۔۔۔ پھر پرت پہ
پرت کھلتا جائے گا ۔۔۔۔۔۔ اسرار ظاہر ہوتے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ وجود ختم
ہوجائے گا۔۔۔۔۔
ہر اک کی زندگی میں ایک بار دستک ضرور ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ کبھی یونہی چلتے چلتے
۔۔۔۔۔۔ کبھی ٹھوکر لگنے پر ۔۔۔۔۔ کبھی کوئی بازی ہار کر ۔۔۔۔۔ کبھی منہ کے بل گر
کر اور کبھی سارا کچھ ہار کر ۔۔۔۔۔ صرف اس دستک کو سمجھنے کی بات ہے ۔۔۔۔۔ اس کے
بعد ایسا سفر شروع ہوجاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ حاصل اور لاحاصل کے
درمیان جنگ ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ بس اک چپ سی لگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔ ایسی چپ جس میں نہ
کوئی افسوس ہوتا ہے، نہ پچھتاوا، نہ دکھ، بس اک شانتی سی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اقرار سا
ہوتا ہے اور سکون بھی۔
جھولی بھردے میرے مالک
یاخدا! تو جانتا ہے کہ میں تیری
کائنات کا سب سے حقیر ذرہ ہوں، لیکن میری کم ظرفی کی داستانیں آسمان سے بھی بلند
ہیں۔ میری حقیقت سے اور میرے دل میں چھپے ہر چور سے بس تو ہی واقف ہے۔ میرے گناہوں
کی فہرست کتنی بھی طویل سہی، تیری بے کراں رحمت سے کم ہے۔ سو، میری منافقت بھری
توبہ و معافی کو یہ جانتےہوئے بھی قبول فرما کہ توبہ کرتے وقت بھی میرے دل کا چور
مجھے تیری نافرمانی پر مستقل اکساتا رہتا ہے۔ پھر بھی تجھے تیرے پیارے صلی اللہ
علیہ وسلم کا واسطہ، میری لاج رکھنا۔ میرے عیبوں پر اور میری جہالت پر پردہ ڈالے
رکھنا۔ میرے مولا! تیرا ہی آسرا ہے، تو ہی عیبوں کا پردہ دار ہے۔ میری جھولی میں
سو چھید ہیں، پھر بھی یہ جھولی تیرے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ اسے بھردے میرے مالک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wednesday, December 2, 2015
انسان کا جڑنا
مجھے وہ بات یاد آرہی ہے
جو شاید میں نے ٹی وہ پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس کاپی
کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جس میں دنیا کا نقشہ تھا اور اس نقشے کو ۳۲ ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اپنے پانچ سال
کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے
جو ٹکڑوں میں ہے، اس کو جوڑ کر دکھاؤ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہوکے
بیٹھ گیا کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے، میرے جیسا بڑی عمر
کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا لیکن کچھ دیر بعد اس
نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا۔ اس کا باپ بڑ ا
حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا
تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا۔
اس پر اس لڑکے نے کہا کہ
بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کے دوسری طرف سیفٹی بلیڈ کا ایک
اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا۔
میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت
میں میں نے پورا آدمی جوڑ دیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ بابا اگر آدمی جڑ جائے تو ساری
دنیا جڑ جائے گی۔
Tuesday, December 1, 2015
مٹی کا رشتہ
آدم کی تخلیق میں تراب، یعنی مٹی کا عنصر پانی، ہوا اور کچھ دیگر لوازمات سے
زیادہ رہا ہے۔ اس کو اتارا بھی اسی مٹی پہ، اس کی بیشتر معیشت، کاروبار، حیات،
ذرائع و وسائل، جینا مرنا اسی مٹی اور زمین کی مرہون منت ٹھہرائے گئے۔ اس کی گِل
اسی مٹی سے تیار ہوئی۔ اس کی فطرت و فہامت اس مٹی کی تاثیر اور مزاج کے مطابق
ڈھالی گئی۔ مگر جب اس مٹی سے بیگانگی روا رکھ کر یہ مٹی کا پُتلا ملٹی اسٹوری
فلیٹوں میں جابسا تو نتیجہ یہ نکلا کہ ایسی ایسی نہ سمجھ میں آنے والی بیماریاں،
دماغی عارضے، نفسیاتی الجھنیں اور روحانی رکاوٹیں پیدا ہوگئیں کہ جن کا شافی علاج
لمحہ موجود تک میڈیکل سائنس کے پاس بھی موجود نہیں۔ یہ سارا شاخسانہ زمین مٹی سے
ناتہ توڑنے کا ہے۔ مٹی کے قریب رہنا، محسوس کرنا ۔۔۔۔۔ اس پر چلنا پھرنا، دیکھنا،
سونگھنا۔۔۔۔ اس پر ٹہلنا، لیٹنا، سونا، اس کی کاشت، نہلائی، گوڈائی، سینچائی وغیرہ
بذات خود ہزار بیماریوں کا علاج ہیں۔
Sunday, November 15, 2015
تحکم
انسان کو غالباً سب سے زیادہ تحکم کا شوق ہے۔ وہ دوسروں پر
کبھی خوشامد، کبھی سزا دے کر اپنی انا کو پہچانتا رہتا ہے۔ تحکم زیادہ ہوتا چلا
جائے تو خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسروں کی مرضی پر اپنی مرضی
مسلط کرنے کے مواقع کم ہوں تو احساس کمتری بڑھنے لگتا ہے۔ مذہب، قانون، ماں، باپ،
استاد، رسم و رواج، کسی قسم کی بھی اطاعت ہو تو انسان تابع کی حیثیت میں فیصلے
کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے فیصلوں کے لئے اپنے اندر کے بجائے باہر کی آواز حق پر
اعتماد کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماننے والے پر سے فیصلے کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بوجھ کے اٹھتے ہی وہ صاحب اختیار بھی نہیں رہتا اور اسی لئے اپنے پر
بھروسہ کرنا اس کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ ترقی کے لئے اپنے فیصلے پر اعتماد کرنا
انتہائی اہم ہے۔ اسی خود اعتمادی کے سہارے مغربی معاشرے میں ترقی کا پہیہ جام نہیں
ہوتا۔
Monday, November 9, 2015
رشتے، چاہتیں اور محبتیں
زندگی پھر مجھے موقع دے۔ میں فرض
کرلوں کہ مجھے دوسری زندگی ملے۔ فیصلے کا اختیار پھر میرے ہاتھ میں دیا جائے۔ ایک
رشتہ یا بہت سے رشتے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چاہت یا بہت سی چاہتیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک
محبت یا بہت سی محبتیں؟ تو میرا انتخاب ہر بار رشتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور محبتیں ہوگا۔‘‘
(فرحت اشتیاق کے ناول ’’وہ جو قرض
رکھتے تھے جان پر‘‘ سے اقتباس)
Sunday, November 8, 2015
محبت
محبت دنیا کا خوبصورت جذبہ ہے۔ سونا
جس طرح تپ کر کندن بن جاتا ہے، اسی طرح محبت جب اپنی خالص ترین شکل میں ڈھلتی ہے تو
’’ممتا‘‘ بن جاتی ہے اور ممتا وہ جذبہ ہے جو کائنات کو متحد رکھنے میں، جوڑنے میں
اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ کام آتی ہے۔
(تنزیلہ ریاض کے ناول ’’عہد الست‘‘ سے اقتباس)Saturday, November 7, 2015
Thursday, November 5, 2015
محبت
محبت چہروں اور آوازوں سے تھوڑی کی
جاتی ہے۔ محبت تو روح سے کی جاتی ہے، دل سے کی جاتی ہے، انسان سے کی جاتی ہے، اس
کی خوبیوں سے کی جاتی ہے۔ محبت انسان کی غیر مرئی خصوصیات سے کی جاتی ہے۔ محبت
ظاہری چیزوں سے نہیں کی جاتی ہے کیونکہ یہ سدا رہنے والی چیزیں نہیں ہوتیں، یہ تو
کبھی بھی کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔
(عنیزہ سید کے ناول ’’جو رکے تو کوہِ
گراں تھے ہم‘‘ سے اقتباس)
Monday, November 2, 2015
چڑیا، چڑے کی کہانی
ایک تھی چڑیا، ایک تھا چڑا، چڑیا لائی
دال کا دانا، چڑا لایا چاول کا دانا، اس سے کھچڑی پکائی، دونوں نے پیٹ بھر کر
کھائی، آپس میں اتفاق ہو تو ایک ایک دانے کی کھچڑی بھی بہت ہوتی ہے۔
چڑا بیٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل
میں وسوسہ آیا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے
روز کھچڑی پکی تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، چوالیس حصے تو لے، اے
بھاگوان پسند کر یا نا پسند کر۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر، چڑے نے اپنی چونچ میں
سے چند نکات بھی نکالے اور بی بی کے آگے ڈالے۔ بی بی حیران ہوئی بلکہ رو رو کر
ہلکان ہوئی کہ اس کے ساتھ تو میرا جنم کا ساتھ تھا لیکن کیا کرسکتی تھی۔
دوسرے دن پھر چڑیا دال کا دانا لائی
اور چڑا چاول کا دانا لایا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈیا چڑھائی۔ کھچڑی پکائی، کیا
دیکھتے ہیں کہ دو ہی دانے ہیں۔ چڑے نے چاول کا دانہ کھایا، چڑیا نے دال کا دانا
اٹھایا۔ چڑے کو خالی چاول سے پیچش ہوگئی، چڑیا کو خالی دال سے قبض ہوگئی۔ دونوں
ایک حکیم کے پاس گئے جو ایک بلا تھا۔ اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھیرا
اور پھیرتا ہی چلا گیا۔
یہ کہانی بہت پرانے زمانے کی ہے۔ آج
کل تو چاول ایکسپورٹ ہوجاتا ہے اور دال مہنگی ہے۔ اتنی کہ وہ لڑکیاں جو مولوی
اسماعیل میرٹھی کے زمانے میں دال بگھارا کرتی تھیں، آج کل فقط شیخی بگھارتی ہیں۔
(’’اردو کی آخری کتاب‘‘ از ابن انشا
سے انتخاب)
Tuesday, October 27, 2015
آگہی
انسان بعض دفعہ اپنی
ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا
اس سے واسطہ پڑجاتا ہے، وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم
میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے کرسکتا
ہوں؟ میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے
ہوتے ہیں، جواب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب بس ایک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ڈھونڈنے سے
بھی نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عمیرہ احمد کے ناول
’’عکس‘‘ سے اقتباس)
Monday, October 26, 2015
غصہ کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے
مجھے جب غصہ آتا تو
قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ اس جھکڑ کو گزر جانے دو، اندر
رکے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روکوگے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصہ
کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں کسی چیز کے
حصول کے لئے بار بار کوشش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ۔۔۔۔۔۔۔ ضد نہ کرو
۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں دوسروں کو
نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نا ۔۔۔۔۔۔۔ ہار جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار
جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی میں تھکا ہوتا
کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اسے ٹالنے کی سوچتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدرت اللہ
کہتا دے دو دوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اللہ کو تمہاری یہی ادا پسند آجائے۔
(ممتاز مفتی کی کتاب
’’الکھ نگری‘‘ سے اقتباس)
Subscribe to:
Posts (Atom)

















































