Showing posts with label nimra ahmed. Show all posts
Showing posts with label nimra ahmed. Show all posts

Saturday, May 2, 2015

جنت کے پتے سے اقتباس

لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں حیا! عیاں پڑی ریت، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے اور اگر سمندر کی تہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے۔ لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے، وہ موتی بن جاتا ہے۔ جوہری اس ایک موتی کے لئے کتنے ہی سیپ چنتا ہے اور پھر اس موتی کو مخملیں ڈبوں میں بند کرکے محفوظ تجوریوں میں رکھ دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی جوہری اپنی دکان کے شوکیس میں اصلی جیولری نہیں رکھتا۔ مگر ریت کے ذرے کے لئے موتی بننا آسان نہیں ہوتا، وہ ڈوبے بغیر سیپ کو کبھی نہیں پاسکتا۔




Friday, April 24, 2015

مصحف سے اقتباس

جب تمہیں تکلیف ہو اور دل افسردہ ہو تو دل میں رولو مگر زبان سے وہی کہو جو اللہ تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہے۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)


Sunday, March 1, 2015

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے بیٹا، جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بے عزت کردیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔



Thursday, February 19, 2015

ٹھوکر کھائے بغیر

انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم کھائے بغیر، خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟



Sponsored