Showing posts with label jannat kay pattay. Show all posts
Showing posts with label jannat kay pattay. Show all posts

Friday, July 3, 2015

اللہ کا احسان



ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Sunday, May 17, 2015

ٹھوکر کھائے بغیر

انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم کھائے بغیر، خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Saturday, May 2, 2015

جنت کے پتے سے اقتباس

لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں حیا! عیاں پڑی ریت، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے اور اگر سمندر کی تہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے۔ لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے، وہ موتی بن جاتا ہے۔ جوہری اس ایک موتی کے لئے کتنے ہی سیپ چنتا ہے اور پھر اس موتی کو مخملیں ڈبوں میں بند کرکے محفوظ تجوریوں میں رکھ دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی جوہری اپنی دکان کے شوکیس میں اصلی جیولری نہیں رکھتا۔ مگر ریت کے ذرے کے لئے موتی بننا آسان نہیں ہوتا، وہ ڈوبے بغیر سیپ کو کبھی نہیں پاسکتا۔




Thursday, April 23, 2015

ہم دل کے برے نہیں

ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں، بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں، دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں، ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی، مگر اس سب کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادہ، بہت معصوم، بہت پیارے ہوتے ہیں۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Sunday, March 1, 2015

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے بیٹا، جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بے عزت کردیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔



Thursday, February 19, 2015

ٹھوکر کھائے بغیر

انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم کھائے بغیر، خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟



Sponsored