Showing posts with label nimra ahmed iqtibas. Show all posts
Showing posts with label nimra ahmed iqtibas. Show all posts

Sunday, December 13, 2015

ماں

’’ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے۔ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز نافرمانی ہوتی ہے۔ لوگ اس کی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں مگر کیا وہ انہیں روزی دینا بند کردیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کیا اناج کا قحط پڑجاتا ہے؟ نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ خدا جب بھی کسی چیز کو واضح کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں جنت و جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے مگر جب بات آتی ہے بنی انسان سے محبت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں۔ اللہ کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبت، بھائی کی محبت، بہن کی محبت، بیوی کی محبت، دوستوں، قرابت داروں کی محبت سے اپنی محبت کا موازنہ کرتا مگر نہیں ، اس نے ماں کی مثال دی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل اعتبار محبت ماں کی ہے۔‘‘


iqtibasat, nimra ahmed iqtibasat, sans sakin thi iqtibas

Monday, September 28, 2015

زینے

کسی بھی مشکل سے مت گھبراؤ۔ یہ کٹھن اور دشوار گزار موڑ جو سفر حیات میں آتے ہیں دراصل ہمیں ہماری منزلوں تک پہنچانے والے زینے ہوتے ہیں۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’میرے خواب میرے جگنو‘‘ سے اقتباس)


Wednesday, September 9, 2015

عزت نفس

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے! جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بے عزت کردیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Thursday, September 3, 2015

سادہ دل

ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی۔ لیکن اس کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادا، بہت معصوم اور بے حد پیارے ہوتے ہیں۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)



Monday, August 24, 2015

خواب

خواب تو وہ ہوتے ہیں جن سے خوشی اور امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھی گئی ان خوشیوں کا نام ہے جو حقیقت میں نہیں ہوتیں۔ خواب تو امید ہوتے ہیں، اچھے وقت کی، اچھے مستقبل کی، اچھی زندگی کی، خواب محبت سے عبارت ہوتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’میرے خواب میرے جگنو‘‘ سے اقتباس)



Monday, August 10, 2015

ریجیکشن

جب کسی لکھاری کا مسودہ رد کیا جاتا ہے، کسی شاعر کا کلام ناقابل اشاعت قرار دیا جاتا ہے، کسی مصور کی تصویر ریجیکٹ کی جاتی ہے، تب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تب بھی اتنا دکھ محسوس نہیں ہوتا جتنا اپنی ذات، اپنے وجود کی ریجیکشن پر ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی صورت میں انسان کی ’’تخلیق‘‘ کو رد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری صورت میں ’’انسان‘‘ کو دھتکارا جاتا ہے۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)


Sunday, August 9, 2015

توبہ


ہم زمانہ جہالیت سے دورِ اسلام میں آکر ایک ہی دفعہ توبہ کرتے ہیں۔ ساری عمر پھر عمل صالح توکرتے رہتے ہیں مگر بار بار کی توبہ بھول جاتے ہیں۔ ہم ایک کھائی سے بچ کر سمجھتے ہیں کہ زندگی میں پھر کوئی کھائی نہیں آئے گی اور اگر آئی بھی تو ہم بچ کر نکل جائیں گے۔ ہم ہمیشہ نیکیوں کو اپنا انعام سمجھتے ہیں اور مصیبتوں کو گناہوں کی سزا۔ اس دنیا میں جزا بہت کم ملتی ہے اور اس میں بھی امتحان ہوتا ہے۔ نعمت شکر کا امتحان ہوتی ہے اور مصیبت صبر کا اور زندگی کے کسی نئے امتحان میں داخل ہوتے ہی منہ سے پہلا کلمہ ’’حطتہ‘‘ کا نکلنا چاہئے مگر ہم وہاں بھی گندم مانگنے لگتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)


Monday, August 3, 2015

طوعاً کرہاً

جب روز قیامت اللہ زمین آسمان کو بلائے گا ۔۔۔۔ تو ہر چیز کھنچی چلی آئے گی ۔۔۔ طوعاً یا کرہاً۔۔۔۔۔ خوشی سے یا ناخوشی سے ۔۔۔۔۔۔ جب ہم اللہ کے بلانے پر نماز اور قرآن کی طرف نہیں آتے تو اللہ ہمارے لئے ایسے حالات بنادیتا ہے، یہ دنیا اتنی تنگ کردیتا ہے کہ ہمیں زبردستی، سخت ناخوشی کے عالم میں آنا پڑتا ہے اور پھر ہم کرہاً بھی بھاگ کر آتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی طرف طوعاً آجاؤ محمل۔۔۔۔۔۔۔! ورنہ تمہیں کرہاً آنا پڑے گا۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)


Wednesday, July 22, 2015

رشتوں کی اہمیت

چیزیں حیثیت نہیں رکھتیں، انسان بھی نہیں رکھتے، اہم ہوتے ہیں رشتے۔ جب ہم سے چیزیں چھین لی جائیں تو دل ڈوب ڈوب کے ابھرتا ہے۔ مگر جب رشتے کھو جائیں تو دل ایسا ڈوبتا ہے کہ ابھر نہیں سکتا، سانس تک رک جاتی ہے، پھر زندگی میں کچھ اچھا نہیں لگتا۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’پارس‘‘ سے اقتباس)


Friday, July 3, 2015

اللہ کا احسان



ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Sunday, May 17, 2015

ٹھوکر کھائے بغیر

انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم کھائے بغیر، خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Saturday, May 9, 2015

ناشکری

ناشکری انسان کی سرشت میں شامل ہے، صحت یاب ہوکر کبھی طبیب کی یاد نہیں آتی۔ اس کی کشتی طوفان میں پھنس جائے تو اسے صرف اللہ یاد آتا ہے۔ پھر وہ اللہ اپنے مجبور و بے کس بندے کو سمندر سے نکال کر خشکی پر لے آتا ہے تو بندہ یک دم سب کچھ فراموش کردیتا ہے۔
اللہ ان کو زیادہ عزیز رکھتا ہے جو سکھ میں بھی عاجزی اختیار کئے رہتے ہیں۔

Thursday, April 23, 2015

ہم دل کے برے نہیں

ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں، بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں، دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں، ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی، مگر اس سب کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادہ، بہت معصوم، بہت پیارے ہوتے ہیں۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)


Sponsored