Showing posts with label sans sakin thi iqtibas. Show all posts
Showing posts with label sans sakin thi iqtibas. Show all posts

Sunday, December 13, 2015

ماں

’’ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے۔ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز نافرمانی ہوتی ہے۔ لوگ اس کی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں مگر کیا وہ انہیں روزی دینا بند کردیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کیا اناج کا قحط پڑجاتا ہے؟ نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ خدا جب بھی کسی چیز کو واضح کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں جنت و جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے مگر جب بات آتی ہے بنی انسان سے محبت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں۔ اللہ کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبت، بھائی کی محبت، بہن کی محبت، بیوی کی محبت، دوستوں، قرابت داروں کی محبت سے اپنی محبت کا موازنہ کرتا مگر نہیں ، اس نے ماں کی مثال دی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل اعتبار محبت ماں کی ہے۔‘‘


iqtibasat, nimra ahmed iqtibasat, sans sakin thi iqtibas

Monday, August 10, 2015

ریجیکشن

جب کسی لکھاری کا مسودہ رد کیا جاتا ہے، کسی شاعر کا کلام ناقابل اشاعت قرار دیا جاتا ہے، کسی مصور کی تصویر ریجیکٹ کی جاتی ہے، تب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تب بھی اتنا دکھ محسوس نہیں ہوتا جتنا اپنی ذات، اپنے وجود کی ریجیکشن پر ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی صورت میں انسان کی ’’تخلیق‘‘ کو رد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری صورت میں ’’انسان‘‘ کو دھتکارا جاتا ہے۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)


Sponsored