Showing posts with label mumtaz mufti iqtibas. Show all posts
Showing posts with label mumtaz mufti iqtibas. Show all posts

Monday, October 26, 2015

غصہ کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے

مجھے جب غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ اس جھکڑ کو گزر جانے دو، اندر رکے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روکوگے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصہ کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے بار بار کوشش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ۔۔۔۔۔۔۔ ضد نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نا ۔۔۔۔۔۔۔ ہار جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اسے ٹالنے کی سوچتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اللہ کو تمہاری یہی ادا پسند آجائے۔

(ممتاز مفتی کی کتاب ’’الکھ نگری‘‘ سے اقتباس)

iqtibas, mumtaz mufti iqtibas, alakh nagri iqtibas


Thursday, September 10, 2015

مثبت رخ

پتہ نہیں کیوں میرے دل میں جنت کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ اگر اللہ جنت دے دے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ دوزخ کا ڈر میں شدت سے محسوس کرتا ہوں لیکن دوزخ سے بچنے کے لئے ثواب کمانے کی آرزو نہیں رکھتا۔ مجھے اس آرزع سے دوکانداری کی بو آتی ہے۔ میرے ذہن میں نیکی، عادت، اذیت، وحشت، امکان ثواب سے بے تعلق چیز ہے۔ بے مقصد، بے نیاز۔ مجھے یہ آرزو بھی نہیں کہ اللہ والا بن جاؤں یا بزرگی مل جائے یا مست ہوجاؤں۔ مجھے مراتب کی طلب نہیں۔ میری دانست میں عام انسان بذات خود ایک عظیم مرتبہ ہے۔ مجھے صرف ایک آرزو ہے کہ میرا رخ مثبت رہے۔ انسانوں کی طرف، اللہ کی طرف۔
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’لبیک‘‘ سے اقتباس)

Tuesday, September 1, 2015

محبت

محبت دوڑ نہیں ہوتی، طوفان نہیں ہوتی، سکون ہوتی ہے۔ دریا نہیں ہوتی، جھیل ہوتی ہے۔ دوپہر نہیں ہوتی، بھور سمے ہوتی ہے۔ آگ نہیں ہوتی، اجلا ہوتی ہے۔ اب میں تجھے کیا بتاؤں کہ کیا ہوتی ہے۔ وہ بتانے کی چیز نہیں، بیتنے کی چیز ہے۔ سمجھنے کی چیز نہیں، جاننے کی چیز ہے۔
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’سمے کا بندھن‘‘ کے افسانے’’عینی اور عفریت‘‘ سے اقتباس)


Wednesday, August 12, 2015

منفی مقصد


اس جلوس کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا۔ اتنا بڑا جلوس ننگی کرپانیں۔ سکھ انہیں لہرا رہے تھے۔ ہندنیاں سیاپا کر رہی تھیں۔ وہ سب چلا رہے تھے۔ ’’نہیں بننے دیں گے پاکستان‘‘۔ یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی تھی۔ نہیں بننے دیں گے تو ایک منفی مقصد ہے، مثبت نہیں۔ منفی مقصد کے لئے اتنا شور شرابا تشدد کی ننگی دھمکی۔
منفی مقصد کے لئے تو لوگ شرماتے ہیں۔ اسے چھپا کر رکھتے ہیں کہ کوئی جان نہ لے، لیکن وہ لوگ تو منفی مقصد کو جھنڈا بنا کر لہرا رہے تھے۔ دھمکی دے رہے تھے کہ پاکستان بن گیا تو خون کی ندیاں بہا دیں گے۔ انکا نعرہ تو اکھنڈ ہندوستان ہونا چاہئے تھا۔ انہیں پاکستان سے نفرت کیوں ہے؟
وہ پہلا دن تھا جب میرے دل میں پاکستان کے مطالبے سے ہمدردی پیداہوئی تھی اور میں نے یہ جانا تھا کہ ہندو، ہندوستان کی عظمت نہیں چاہتے بلکہ ہندو کی عظمت کے خواہاں ہیں۔
(ممتاز مفتی کی "الکھ نگری" سے اقتباس)




Sponsored