انسان کو غالباً سب سے زیادہ تحکم کا شوق ہے۔ وہ دوسروں پر
کبھی خوشامد، کبھی سزا دے کر اپنی انا کو پہچانتا رہتا ہے۔ تحکم زیادہ ہوتا چلا
جائے تو خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسروں کی مرضی پر اپنی مرضی
مسلط کرنے کے مواقع کم ہوں تو احساس کمتری بڑھنے لگتا ہے۔ مذہب، قانون، ماں، باپ،
استاد، رسم و رواج، کسی قسم کی بھی اطاعت ہو تو انسان تابع کی حیثیت میں فیصلے
کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے فیصلوں کے لئے اپنے اندر کے بجائے باہر کی آواز حق پر
اعتماد کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماننے والے پر سے فیصلے کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بوجھ کے اٹھتے ہی وہ صاحب اختیار بھی نہیں رہتا اور اسی لئے اپنے پر
بھروسہ کرنا اس کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ ترقی کے لئے اپنے فیصلے پر اعتماد کرنا
انتہائی اہم ہے۔ اسی خود اعتمادی کے سہارے مغربی معاشرے میں ترقی کا پہیہ جام نہیں
ہوتا۔
Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label hasil ghaat. Show all posts
Showing posts with label hasil ghaat. Show all posts
Sunday, November 15, 2015
Saturday, July 11, 2015
تعلق
تعلق تو چھتری ہے، ہر جسمانی، ذہنی، جذباتی غم
کے آگے اندھا شیشہ بن کر ڈھال کا کام دیتی ہے۔ بے روزگاری، بیماری، غریبی،
تنہائی، سارے غموں پر تعلق کا ہی پھایا رکھا جاتا ہے، دوستی، رشتہ داری، بہن
بھائی، نانا، دادا ۔۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ ہر دکھ
کی گھڑی میں کندھے پر رکھا ہوا ہمدرد ہاتھ، آنکھ میں جھلملاتی شفقت، ایک میٹھا
بول، مسکراتا چہرہ بلڈ ٹرانسفیوشن، اسپرو کی گولی بن سکتے ہیں۔ اسی لئے محبت اندوہ
ربا کہلاتی ہے۔ انسان اسی لئے کبھی خدا نہیں بن سکتا کہ اس کی ضرورت دوئی ہے، حتیٰ
کہ اگر اسے دوسرا نہ ملے تو وہ خدا کو اپنی دوئی کا حصہ بنالیتا ہے۔ انسان کی
تنہائی قیامت خیز ہے۔ جونہی اس خلا کو بھرنے والا کوئی آجاتا ہے، انسان اپنی جنت
میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے آپ کو مکمل سمجھنے لگتا ہے۔ ساتھ نہ ہو تو زندگی آزاد
دوزخ ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

