Showing posts with label umaira ahmed iqtibas. Show all posts
Showing posts with label umaira ahmed iqtibas. Show all posts

Wednesday, December 9, 2015

عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس

بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو، جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہر گھاؤ کو سی دے۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں‘‘ سے اقتباس)

iqtibasat, urdu iqtibas, umaira ahmed novel, aao pehla qadam dhartay hain iqtibas

Tuesday, October 27, 2015

آگہی

انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑجاتا ہے، وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے کرسکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں، جواب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب بس ایک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’عکس‘‘ سے اقتباس)

urdu iqtibas, umaira ahmed iqtibas, aks say iqtibas

Friday, October 2, 2015

خواہش

جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت دیتا ہے، اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جسے وہ دنیا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خواہش بھوک بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔
(اقتباس از عمیرہ احمد)


Sunday, August 30, 2015

آزمائش

ہمیں خدا پر صرف اس وقت پیار آتا ہے جب وہ ہمیں مالی طور پر آسودہ کردے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم اسے طاقتور ہی نہیں سمجھتے۔ ہم نماز کے دوران اللہ اکبر کہتے ہیں، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور نماز ختم کرتے ہی ہم روپے کو بڑا سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھ سے نفرت کرتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خدا تو ہر ایک سے محبت کرتا ہے اس لئے تو اس نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا، اور وہ اپنے انہی بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’زندگی گلزار ہے‘‘ سے اقتباس)


Monday, August 17, 2015

عشق مجازی سے عشق حقیقی تک

عشق انسان کو کائنات کے کسی دوسرے حصے میں لے جاتا ہے، زمین پر رہنے نہیں دیتا اور عشق لاحاصل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ کہتے ہیں انسان عشق مجازی سے عشق حقیقی تک تب سفر کرتا ہے جب عشق لاحاصل رہتا ہے۔ جب انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی دل اور ہاتھ لے کر پھرے۔
ہوتا ہوگا لوگوں کے ساتھ ایسا،
گزرے ہوں گے لوگ عشق لاحاصل کی منزل سے اور طے کرتے ہوں گے مجازی سے حقیقی تک کے فاصلے۔ مگر میری سمت الٹی ہوگئی تھی۔ میں نے عشق حقیقی سے عشق مجازی کا فاصلہ طے کیا تھا۔ مجازی کو نہ پاکر حقیقی تک نہیں گئی تھی۔ حقیقی کو پاکر بھی مجازی تک آگئی تھی اور اب در بہ در پھررہی تھی۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’دربارِ دل‘‘ سے اقتباس)


Friday, July 24, 2015

فراڈ اور مکار

جو مرد کسی عورت سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس کے لئے اپنے آپ کو بدل دے گا، اس سے بڑھ کر فراڈ اور مکار کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنے مذہب کے لئے اپنی پارسائی برقرار نہیں رکھ سکتا، جو شخص اپنے خاندان کی عزت اور نام کے لئے اپنی آوارگی پر قابو نہیں پاسکتا، جو اپنے ماں باپ کے پڑھائے ہوئے تمام سبق بھول کر پستی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے، جو خود اپنی نظروں میں اپنا احترام اور عزت باقی رکھنے کی پرواہ کئے بغیر عیاشی کرتا ہے، وہ کسی عورت کے لئے خود کو کیا بدلے گا۔

(عمیرہ احمد)


Saturday, May 30, 2015

نعمتوں کا حساب

سارے دن سب کے لئے اچھے اور سب کے لئے برے نہیں ہوتے، نہ ہی اللہ ہر انسان کو ہر قسم کی تنگی دیتا ہے۔ کچھ چیزوں میں تنگی ہوتی ہے، کچھ میں آسانی۔ انسان پریشانیوں کی گنتی کرنے کا ماہر ہے، نعمتوں کا حساب کتاب رکھنا اُسے ہمیشہ بھول جاتا ہے۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’مرآۃ العروس‘‘ سے اقتباس)


Tuesday, May 19, 2015

فیصلے

زندگی میں ہر انسان سے ہر فیصلہ صحیح نہیں ہوسکتا، بعض فیصلے انسان غصے اور جلد بازی میں کرتا ہے اور بعض جذبات میں مجبور ہوکر ۔۔۔۔۔۔۔ اور کہیں نہ کہیں عقل و ہوش کچھ دیر کے لئے انسان کا ساتھ ضرور چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی حماقت، عقل پر قبضہ ضرور کرلیتی ہے، چاہے وہ چند لمحوں کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔
(عمیرہ احمد کے ناول ’’عکس‘‘ سے ایک خوبصورت اقتباس)


Sunday, May 10, 2015

ساتھ چلنے والا

زندگی میں ہمارے ساتھ چلنے والا ہر شخص اس لئے نہیں ہوتا کہ ہم ٹھوکر کھا کر گریں اور ہمیں سنبھال لے، ہاتھ تھام کر، گرنے سے پہلے یا بازو کھینچ کر گرنے کے بعد، بعض لوگ زندگی کے اس سفر میں ہمارے ساتھ صرف یہ دیکھنے کے لئے ہوتے ہیں کہ ہم کب، کہاں اور کیسے گرتے ہیں۔ لگنے والی ٹھوکر ہمارے گھٹنوں کو زخمی کرتی ہے یا ہاتھوں کو، خاک ہمارے چہرے کو گندا کرتی ہے یا کپڑوں کو۔

(عمیرہ احمد کے ناول ’’تھوڑا سا آسمان‘‘ سے اقتباس)


Wednesday, January 21, 2015

ہمارا ہونا نہ ہونا iqtibas

زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں، وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے، کوئی ماں باپ، کوئی بہن بھائی، کوئی دوست نہیں ہوتا۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان، بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلا میں تھامے ہوئے ہے۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک ذرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے۔ صرف ہمارا کردار ختم ہوجاتا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔(عمیرہ احمد کے ناول ’’پیر کامل‘‘ سے اقتباس)

Sponsored