Showing posts with label famous poetry. Show all posts
Showing posts with label famous poetry. Show all posts

Monday, October 26, 2015

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام
شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے
ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر
راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے
وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب
دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو آئے
مصلحت کوشیٔ احباب سے دم گھٹتا ہے
کسی جانب سے کوئی نعرۂ یاہو آئے
سینے ویران ہوئے انجمن آباد رہی
کتنے گل چہرہ گئے کتنے پرہ رو آئے
آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیا
جشن غم جاری ہوا آنکھوں میں آنسو آئے

(ضیا جالندھری)

poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, zia jalindhari poetry, rang batain karain or baton say khushboo aaye


Tuesday, August 18, 2015

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے، لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پرکیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سوجائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

(جاں نثار اختر)

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہوگئی زمانے کو
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤگے
کہو تو آج سجالوں غریب خانے کو
دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو
اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو
قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوفِ رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو

(قمر جلالوی)

Monday, August 17, 2015

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

نگاہوں میں تو ہے یہ دل جھومتا ہے
نہ جانے محبت کی راہوں میں کیا ہے
جو تو ہمسفر ہے تو کچھ غم نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

وہ آئیں نہ آئیں جمی ہیں نگاہیں
ستاروں نے دیکھی ہیں جھک جھک کے راہیں
یہ دل بدگماں ہے، نظر کو یقیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

(فیاض ہاشمی)


آج جانے کی ضد نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے! مرجائیں گے، ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو

تم ہی سوچو ذرا، کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو

کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں
روک لو آج کی رات کو

گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی
اور پلکوں کے سائے بھی مدہوش ہیں
حسنِ معصوم کو جانِ جاں
بے خودی میں نہ رسوا کرو

(فیاض ہاشمی)


Friday, June 12, 2015

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے



Wednesday, May 6, 2015

دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا

دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا
سر سے جمالِ یار کا سایہ نہیں گیا
کب ہے وصالِ یار کی محرومیوں کا غم
یہ خواب تھا سو ہم کو دکھایا نہیں گیا
میں جانتا تھا آگ لگے گی ہر ایک سمت
مجھ سے مگر چراغ بجھایا نہیں گیا
وہ شوخ آئینے کے برابر کھڑا رہا
مجھ سے بھی آئینے کو ہٹایا نہیں گیا
ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی مرے اختیار میں
ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا
اڑتا رہا میں دیر تلک پنچھیوں کے ساتھ
اے سعد مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا

(سعد اللہ شاہ)


زندگی سے ڈرتے ہو


Tuesday, May 5, 2015

آوارگی

آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل میرا کہاں بجھ گیا! آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آواگی
کل سب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے؟ اس نے کہا! آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں، یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اکتا گئے، اپنی سنا! آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا! آوارگی
(محسن نقوی)


Wednesday, April 29, 2015

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالب

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالب
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور

(مرزا غالب)


چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو، برس جاؤ کسی دن
رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب
دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے
پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن
پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی
پھر لطف شب وصل کو دہراؤ کسی دن
گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے
اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن
میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں
سر رکھ کے میرے سینے پہ سوجاؤ کسی دن

(امجد اسلام امجد)


Monday, April 27, 2015

اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر

سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں

(فیض احمد فیض)


Sponsored