Showing posts with label mohsin naqvi poetry. Show all posts
Showing posts with label mohsin naqvi poetry. Show all posts

Monday, September 21, 2015

وہ چل دیئے تو کئی داستانیں چھوڑ گئے

وہ چل دیئے تو کئی داستانیں چھوڑ گئے
وہ مل گئے تو کوئی بات روبرو نہ ہوئی

(محسن نقوی)


Thursday, August 20, 2015

محبت چھوڑ دی ہم نے

کچھ وقت کی روانی نے ہمیں یوں بدل دیا محسن
وفا پر اب بھی قائم ہیں، مگر محبت چھوڑ دی ہم نے

(محسن نقوی)


Sunday, August 9, 2015

تین شعر ۔۔۔۔ تین شاعر

بکنے والے اور ہیں جاکر خرید لو محسن
ہم لوگ قیمت سے نہیں قسمت سے ملا کرتے ہیں
(محسن نقوی)
چاہوں تو اک نظر میں خرید لوں اس کو فراز
جس کو ناز ہے کہ بکتا نہیں ہوں میں
(احمد فراز)
کس کی ہے مجال کہ ہم کو خرید سکے وصی
ہم تو خود ہی بک گئے خریدار دیکھ کر

(سید وصی شاہ)


Monday, July 27, 2015

محبت کا بھرم ہوتا تو پھر کچھ سوچ کر جاتے

محبت کا بھرم ہوتا تو پھر کچھ سوچ کر جاتے
ورنہ زندگی بن کے میرے ہمدم گزر جاتے
تھکے ہارے پرندوں کو جو دیکھا تو خیال آیا
کوئی جو منتظر ہوتا تو ہم بھی اپنے گھر جاتے
میں کھا کر درد کی ٹھوکر ابھی تک حوصلہ مند ہوں
یہ ٹھوکر جو تمہیں لگتی تو تم خود بھی بکھر جاتے
اس تنہائی کا ہم پہ بڑا احسان ہے محسن
نہ دیتی ساتھ یہ اپنا، تو جانے ہم کدھر جاتے

(محسن نقوی)


Saturday, July 11, 2015

بکنے والے اور ہیں

بکنے والے اور ہیں جاکر خرید لو محسن
ہم لوگ قیمت سے نہیں قسمت سے ملا کرتےہیں



Friday, July 3, 2015

روٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کرگیا

روٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کرگیا
پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کرگیا
شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کرگیا
منہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ
پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کرگیا
بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ
طوفاں میں کشتیوں کی سفارش بھی کرگیا
دل کا نگر اجاڑنے والا ہنر شناس
تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کرگیا
سب اہلِ شہر جس پہ اٹھاتے تھے انگلیاں
وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کرگیا
محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی
آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کرگیا
(محسن نقوی)

Tuesday, May 19, 2015

غم کے سنجوگ اچھے لگتے ہیں

غم کے سنجوگ اچھے لگتے ہیں
مستقل روگ اچھے لگتے ہیں
کوئی وعدۂ وفا نہ کر، کہ مجھے
بے وفا لوگ اچھے لگتے ہیں

(محسن نقوی)


Tuesday, May 12, 2015

دل کے آنگن میں بھی دیوار اٹھادی جائے

میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا
دل کے آنگن میں بھی دیوار اٹھادی جائے

(محسن نقوی)

Tuesday, May 5, 2015

آوارگی

آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل میرا کہاں بجھ گیا! آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آواگی
کل سب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے؟ اس نے کہا! آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں، یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اکتا گئے، اپنی سنا! آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا! آوارگی
(محسن نقوی)


Monday, May 4, 2015

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟
پیچھے مڑ کر کیوں دیکھتا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو؟
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا تم سچے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو

(محسن نقوی)

Thursday, January 22, 2015

یہ دل یہ پاگل دل میرا urdu poetry

یہ دل یہ پاگل دل میرا کہاں بجھ گیا! آوارگیاس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آوارگیکل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیامیں نے کہا تو کون ہے؟ اس نے کہا! آوارگیاک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سببصحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگییہ درد کی تنہائیاں، یہ دشت کا ویراں سفرہم لوگ تو اکتا گئے، اپنی سنا! آوارگیکل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میںمحسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا! آوارگی(محسن نقوی)

poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, mohsin naqvi poetry, ye dil ye pagal dil mera kahan bujh gaya aawargi

itni muddat baad milay ho

http://www.urduinc.com/urdu-poetry

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟
پیچھے مڑ کر کیوں دیکھتا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو؟
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا تم سچے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسنؔ تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو

poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, mohsin naqvi poetry, itni muddat baad milay ho

Sponsored