Showing posts with label ahmed faraz poetry. Show all posts
Showing posts with label ahmed faraz poetry. Show all posts

Sunday, January 3, 2016

خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے

خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
منصف ہواگر تم تو کب انصاف کروگے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے
کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

(احمد فراز)

poetry, urdu poetry, ghazal, urdu ghazal, ahmed fraz poetry, ahmed fraz ghazal, ahmed faraz poetry, ahmed faraz ghazal, khamosh ho keon dad-e-jafa keon nahi detay

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں


(احمد فراز)

ahmed fraz poetry, ahmed faraz poetry, ahmed fraz ghazal, ab kay hum bichray to shayed kabhi khwabon main milain

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤگے
اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پر دھر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں، کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا


(احمد فراز)

urdu poetry, ahmed faraz poetry, urdu ghazal, ghazal, ahmed faraz poetry, ahmed fraz poetry, aankh say door na ho dil say utar jaye ga

Tuesday, December 1, 2015

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پر کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں، نہ وہ تُو ہے، نہ وہ ماضہ ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں


ahmed faraz poetry, ahmed fraz poetry, urdu poetry, urdu ghazal, famous ghazal

Tuesday, October 27, 2015

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

(احمد فراز)
poetry, urdu poetry, ahmed fraz poetry, ab or kia kisi say marasim barhain hum

Monday, August 24, 2015

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

(احمد فراز)


Friday, August 21, 2015

Sunday, August 9, 2015

تین شعر ۔۔۔۔ تین شاعر

بکنے والے اور ہیں جاکر خرید لو محسن
ہم لوگ قیمت سے نہیں قسمت سے ملا کرتے ہیں
(محسن نقوی)
چاہوں تو اک نظر میں خرید لوں اس کو فراز
جس کو ناز ہے کہ بکتا نہیں ہوں میں
(احمد فراز)
کس کی ہے مجال کہ ہم کو خرید سکے وصی
ہم تو خود ہی بک گئے خریدار دیکھ کر

(سید وصی شاہ)


Thursday, August 6, 2015

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

(احمد فراز)


Friday, June 26, 2015

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا
کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو



Friday, May 15, 2015

ترسا دیا ہے ابرِ گریزاں نے اس قدر

ترسا دیا ہے ابرِ گریزاں نے اس قدر
برسے جو بوند بھی تو سمندر لگے مجھے
(احمد فراز)


خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے

خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
منصف ہواگر تم تو کب انصاف کروگے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے
کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
(احمد فراز)


Monday, April 13, 2015

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤگے
اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پر دھر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں، کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا

(احمد فراز)


Sponsored