Showing posts with label urdu nazm. Show all posts
Showing posts with label urdu nazm. Show all posts

Tuesday, December 1, 2015

دسمبر اور جدائی

دسمبر اور جدائی کا
بڑا نزدیکی سمبندھ ہے
زرد رات آکے رہتی ہے
محبت جاکے رہتی ہے
اداسی کے سمندر میں
یہ دل ڈوب جاتا ہے
آنسو بہت بہتے ہیں
ہم چپ چاپ رہتے ہیں
چمپا کے دل کے داغوں کو
ہنس کے یہ ہی کہتے ہیں
نیا جو سال آئے گا
بڑی رونق لگائے گا
جو کہ ہو نہیں پاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


poetry, urdu poetry, nazm, urdu nazam, shagufta shafiq poetry december or judai

Thursday, September 17, 2015

میرا ہو بس زیور تم

جو مڑ کے پیچھے کبھی ہم نے دیکھا
تو یادوں کے جھروکوں سے
اجلی اجلی روشن صبحیں
ساری پیاری پیاری شامیں
پیار میں ڈوبی سیاہ راتیں
اور ان سب کے ہو محور تم
نام تمہارے جیون میرا
میرا ہو بس زیور تم

(شگفتہ شفیق)


Wednesday, September 16, 2015

خزاں کے موقع پر

سنا ہے اکیلے ہو تم آج کل
اداسی کی برکھا برس رہی ہے
سارے موقع پرست ہوئے رخصت
سوچتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
خزاں کے موقع پر
اک ایسا کارڈ بھیجوں میں تم کو
جس کو دیکھتے ہی تمہاری آنکھیں جگمگا اٹھیں
آس و امید بر آئے
لمحہ بھر کو ہی سہی
تم مسکرادو پیار سے ۔۔۔۔۔۔

(شگفتہ شفیق)


Thursday, September 3, 2015

جانے اس کو بھی میرے دل کی خبر ہے کہ نہیں

کس نوازش کی ہے غماز کوئی کیا جانے
پاس رہ کر بھی وہ کچھ دور ہی رہنے کی ادا
کس رفاقت کا ہے آغاز کوئی کیا جانے
اتنا مانوس ہے اس کا ہر انداز کہ دل
اس کی ہر بات کا افسانہ بنالیتا ہے
اس کے ترشے ہوئے پیکر سے چرا کر کچھ رنگ
اپنے خوابوں کا صنم خانہ سجا لیتا ہے
جانے اس حسن تصور کی حقیقت کیا ہے
جانے ان خوابوں کی قسمت میں سحر ہے کہ نہیں
جانے وہ کون ہے میں نے اسے سمجھا کیا ہے
جانے اس کو بھی میرے دل کی خبر ہے کہ نہیں

(حمایت علی شاعر)

Wednesday, June 24, 2015

وہم

زندگی بدلنے کو
ایک نظر ہی
کافی ہے
ہم کو ہر وقت ساتھی
اک وہم ستاتا ہے
زندگی بدل کے تم
خود بدل نہیں جانا

(شگفتہ شفیق)

Friday, June 12, 2015

میں اسے واقف الفت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
روح کو اس کی اسیرِ غم الفت نہ کروں
اس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
واقفِ درد نہیں، خوگرِ آلام نہیں
سحرِ عیش میں اس کی اثرِ شام نہیں
زندگی اس کے لئے زہر بھرا جام نہیں!

سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاں
اس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوا
نکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سوا
سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا

سوچتا ہوں کہ غمِ دل نہ سناؤں اس کو
سامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروں
خلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروں
اس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں

سوچتا ہوں کہ جلادے گی محبت اس کو
وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی
خود تو وہ آتشِ جذبات میں جل جائے گی
اور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی
سوچتا ہوںکہ بہت سادہ معصوم ہے وہ
میں اسے واقفِ الفت نہ کروں

(ن م راشد)


Wednesday, June 10, 2015

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کیوں نہیں کرتا ہے کوئی دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہیدِ ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

وقت آنے دے بتادیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
کھینچ کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچۂ قاتل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا ادھر
اور ہم تیار ہیں سینہ لئے اپنا ادھر
خون سے کھیلیں گے ہولی گر وطن مشکل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہاتھ جن میں ہو جنوں کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہم جو گھر سے نکلے ہی تھے باندھ کے سر پہ کفن
جاں ہتھیلی پر لئے، لو لے چلے ہیں یہ قدم
زندگی تو اپنی مہماں موت کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

یوں کھڑا مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
کیا تمنائے شہادت بھی کسی کے دل میں ہے
دل میں طوفانوں کی ٹولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اڑادیں گے ہمیں روکو نہ آج
دور رہ پائے جو ہم سےدم کہاں منزل میں ہے
جسم بھی کیا جسم ہے جس میں نہ ہوں خون جنوں
طوفانوں سے کیا لڑے جو کشتی ساحل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

(رام پرساد عظیم آبادی)


Friday, March 27, 2015

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

بے نام سے سپنے دکھلا کر
اے دل ہر جا نہ پھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادم ہیں
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں راقم سارے لکھتے ہیں
قوانین یہاں نہ ٹکتے ہیں
ہیں یہاں پر کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے
کسوٹی ہے جی ڈی پی اور
کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

امید کو لے کر پڑھتے ہیں
پھر ڈگری لے کر پھرتے ہیں
جب جاب نہ ان کو ملتی ہے
پھر خودکش حملے کرتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
اور فوج کا راج ہی سچا ہے
کھوتا گاڑی والا کیوں مانے
جب بھوکا اس کا بچہ ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

(حبیب جالب)

Sponsored