Showing posts with label habib jalib poetry. Show all posts
Showing posts with label habib jalib poetry. Show all posts

Sunday, December 13, 2015

کیا ہے عشق تو شکوہ نہ کر زمانے کا

کیا ہے عشق تو شکوہ نہ کر زمانے کا
بیاں ہوا تو گیا حسن اس فسانے کا
سزا کےطور پر ہم کو ملا قفس جالب
بہت تھا شوق ہمیں آشیاں بنانے کا

(حبیب جالب)

habib jalib poetry, poetry, urdu poetry

Friday, June 19, 2015

اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے

اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات، بڑی بات ہے پیارے
یہ ہنستا ہوا چاند یہ پرنور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ہر صبح میری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات میری رات پہ بنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

(حبیب جالب)


Tuesday, June 16, 2015

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
بیت گیا ساون کا مہینہ، موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لئے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

(حبیب جالب)


Monday, March 30, 2015

Friday, March 27, 2015

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

بے نام سے سپنے دکھلا کر
اے دل ہر جا نہ پھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادم ہیں
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں راقم سارے لکھتے ہیں
قوانین یہاں نہ ٹکتے ہیں
ہیں یہاں پر کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے
کسوٹی ہے جی ڈی پی اور
کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

امید کو لے کر پڑھتے ہیں
پھر ڈگری لے کر پھرتے ہیں
جب جاب نہ ان کو ملتی ہے
پھر خودکش حملے کرتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
اور فوج کا راج ہی سچا ہے
کھوتا گاڑی والا کیوں مانے
جب بھوکا اس کا بچہ ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

(حبیب جالب)

Sponsored