Showing posts with label saima akram chouhdri. Show all posts
Showing posts with label saima akram chouhdri. Show all posts

Sunday, April 19, 2015

دیمک زدہ محبت سے اقتباس

مذاق میں بھی کسی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان چیزوں کا تمسخر اڑائے جن میں انسان کا اختیار نہیں۔ جب ہم ایسا کررہے ہوتے ہیں تو ہم بالواسطہ اُس ذات کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں جس نے ان چیزوں کو تخلیق کیا ہے۔ انسان ناسمجھ ہے اور اس چیز کا شعور نہیں رکھتا۔ اس لئے تو خسارے میں رہتا ہے۔



Monday, April 6, 2015

خوش فہمی

بہت سے لوگ دنیا میں جان بوجھ کر دھوکا کھاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس بندے پر اپنے خالص جذبات کا خزانہ لٹارہے ہیں وہ اس قابل نہیں ہے۔ اس کے باوجود انسان بڑا خوش فہم واقع ہوا ہے۔ وہ ایک ذرا سی امید اور خوش گمانی کے چکر میں اپنی محبت کے مدار کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے کہ شاید کہیں کوئی اندر جانے کا راستہ مل جائے۔ ایسے لوگ جان بوجھ کر اپنے دل کے کہنے پر سرابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور آخر تھک ہار کر گر جاتے ہیں۔

(صائمہ اکرم چوہدری کے ناول ’’گمشدہ جنت‘‘ سے اقتباس)


Monday, February 16, 2015

tumhain kitna chahatay hain, تمہیں کتنا چاہتے ہیں

’’ہم لڑکیوں کی قوم بہت بے وقوف ہوتی ہے۔ دوسروں کے تجربات سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور جب آنکھوں پر نام نہاد محبت کی پٹی بندھی ہو تو ہر سیدھا راستہ دکھانے والا دشمن ہی لگتا ہے۔ شاید ابنِ آدم کے پاس خوشنما لفظوں کا ایسا جال ہوتا ہے جس سے بنتِ حوا چاہتے ہوئے بھی نکلنا نہیں چاہتی اور ساری عمر کے لئے آنسوؤں کا تحفہ دینے والے کو ہی پوجتی ہے اور ساری زندگی اس حصار سے نہیں نکلتی۔‘‘

(صائمہ اکرم چوہدری کے ناول ’’تمہیں کتنا چاہتے ہیں‘‘ سے اقتباس)


Sponsored