Showing posts with label qabil ajmeri ghazal. Show all posts
Showing posts with label qabil ajmeri ghazal. Show all posts

Wednesday, August 26, 2015

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے
میں رورہا ہوں تو ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کروگے
مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کررہے ہو
مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کروگے
کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ، مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کروگے
اتر تو سکتے ہو یار لیکن مآل پر بھی نگاہ کرلو
خدا نہ کردہ سکون ساحل نہ راس آیا تو کیا کروگے
ابھی تو تنقید ہورہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کروگے
ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جارہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کروگے

(قابل اجمیری)


جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ زندگی کو مری ضرورت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوق منزل اگر سلامت ہے

(قابل اجمیری)


Sponsored