Showing posts with label parveen shakir. Show all posts
Showing posts with label parveen shakir. Show all posts

Monday, April 13, 2015

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

(پروین شاکر)


Friday, March 27, 2015

ایک شعر

وہ جن کے ہاتھوں میں تقدیرِ فصل گل رہی
دے گئے سوکھے ہوئے پتوں کا نذرانہ مجھے

(پروین شاکر)


Friday, March 6, 2015

شعر اور جوابی شعر

اُسے ہم یاد آتے ہیں فقط فرصت کے لمحوں میں
مگر یہ بھی سچ ہے ۔۔۔۔۔ اُسے فرصت نہیں ملتی
(احمد فراز)
۔۔۔۔۔۔
ہم تسلیم کرتے ہیں، ہمیں فرصت نہیں ملتی
مگر جب یاد کرتے ہیں، زمانے بھول جاتے ہیں

(پروین شاکر)


Thursday, March 5, 2015

بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے

بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے
ہماری زندگی برباد کرکے
پلٹ کر پھر یہیں آجائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کرکے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
مگر ہاں منتِ صیاد کرکے
بدن میرا چھوا تھا اُس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کرکے
ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
مقرر ظلم کی میعاد کرکے

(پروین شاکر)


Sponsored