Showing posts with label hashim nadeem. Show all posts
Showing posts with label hashim nadeem. Show all posts

Wednesday, April 8, 2015

بارش کا پانی

لوگوں کے لئے وہ باہر بہتی بارش کا پانی تھا جس نے میرے گال بھگودیئے تھے۔ اچھا ہی ہے کہ قدرت نے بارش کے پانی یا آنسوؤں میں سے کسی ایک کا رنگ جدا تخلیق نہیں کیا تھا ورنہ شاید میرے لئے جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ کاش سبھی رونے والوں کے سروں پر کوئی بادل آکر برس جایا کرتا تو ہم میں سے بہتوں کا بھرم باقی رہ جاتا۔

(ہاشم ندیم کے ناول ’’ایک محبت اور سہی‘‘ سے اقتباس)


Friday, March 6, 2015

بارش کا پانی

لوگوں کے لئے وہ باہر بہتی بارش کا پانی تھا جس نے میرے گال بھگودیئے تھے۔ اچھا ہی ہے کہ قدرت نے بارش کے پانی یا آنسوؤں میں سے کسی ایک کا رنگ جدا تخلیق نہیں کیا تھا ورنہ شاید میرے لئے جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ کاش سبھی رونے والوں کے سروں پر کوئی بادل آکر برس جایا کرتا تو ہم میں سے بہتوں کا بھرم باقی رہ جاتا۔

(ہاشم ندیم کے ناول ’’ایک محبت اور سہی‘‘ سے اقتباس)


Thursday, February 19, 2015

گھائل روح

گھائل روح ہمیشہ سے جانتی ہے کہ اس کے رستے زخموں کا مرہم کیا ہے ۔۔۔۔۔ مسئلہ صرف دماغ کو منانے کا ہے، دل اور دماغ کی یہ ازلی جنگ ہم مجبور، کمزور اور بے بس انسانوں کو سدا دو حصوں میں تقسیم رکھتی ہے۔ ہم دین کے ہوپاتے ہیں نہ دنیا کے۔

(ہاشم ندیم کے ناول ’’پری زاد‘‘ سے اقتباس)


Sponsored