Showing posts with label chiragh talay andhera. Show all posts
Showing posts with label chiragh talay andhera. Show all posts

Thursday, May 7, 2015

چارپائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘”

عربی میں اونٹ کے اتنے نام ہیں کہ دور اندیش مولوی اپنے ہونہار شاگردوں کو پاس ہونے کا یہ گر بتاتے ہیں کہ اگر کسی مشکل یا کڈھب لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو سمجھ لو کہ اس سے اونٹ مراد ہے ۔ اسی طرح اردو میں چارپائی کی جتنی قسمیں ہیں اس کی مثال اور کسی ترقی یافتہ زبان میں شاید ہی مل سکے۔

کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑان کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ، چھپر کھٹ، کھرا، کھری، جھلگا، پلنگ، پلنگڑی، ماچ، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی۔

یہ نا مکمل سی فہرست صرف اردو کی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پر دال ہے اور ہمارے تمدن میں اس کا مقام و مرتبہ متعین کرتی ہے۔

(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’چراغ تلے اندھیرا‘‘ سے اقتباس)

Sponsored