Get Urdu Poetry, Ghazal, Share, Nazm, Urdu Adab, Afsanay, Iqtibasat, urdu poet biography, aqwal-e-zareen etc
Showing posts with label tanz-o-mazah. Show all posts
Showing posts with label tanz-o-mazah. Show all posts
Monday, December 7, 2015
Sunday, November 15, 2015
طنز و مزاح
رات کے ۳ بجے مزمل صاحب کے ہاں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
’’میں آپ کا پڑوسی مہربان علی بول رہا ہوں۔ آپ کا کتا آج شام سے بھونکے جارہا
ہے۔ اس کی وجہ سے میں آج رات ایک لمحے بھی نہیں سوسکا۔ اگر آپ نے اسے چپ نہیں
کرایا تو میں آکر اسے گولی ماردوں گا۔‘‘
دوسری رات عین اسی وقت مہربان علی کے گھر کی فون کی گھنٹی
بجی۔ دوسری جانب مزمل صاحب خوشگوار لہجے میں بولے۔ ’’میں نے یہ بتانے کے لئے فون
کیا ہے کہ میرے ہاں کوئی کتا نہیں ہے۔‘‘
Sunday, November 8, 2015
(طنز و مزاح)
راہگیر نے ایک لڑکے سے کہا۔ ’’کیوں
میاں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ ابھی تک اپنا کھویا ہوا نوٹ تلاش کررہے ہیں؟‘‘
لڑکے نے کہا۔ ’’جی نہیں! نوٹ تو چھوٹے
بھائی کو مل گیا تھا۔‘‘
راہگیر نے حیرت سے پوچھا۔ ’’پھر اب
کیا تلاش کررہے ہو؟‘‘
’’چھوٹے بھائی کو!‘‘ لڑکے نے جواب
دیا۔
Thursday, November 5, 2015
خوش فہمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مینڈک نے نجومی سے اپنے مستقبل کے
بارے میں پوچھا تو نجومی نے بتایا۔ ’’تمہیں ایک لڑکی ملے گی جو تمہارا دل لے جائے
گی۔‘‘
مینڈک نے خوشی سے بے قابو ہوکر کہا۔
’’وہ کہاں ملے گی؟‘‘
’’بائیولوجی لیب میں۔‘‘ نجومی نے جواب
دیا۔
Monday, October 26, 2015
خودکشی کا جواز
ایک عورت کے لئے اس
سے بڑھ کر خودکشی کا جواز اور کیا ہوسکتا ہے کہ دوسری عورت نے بھی اسی کے رنگ اور
ڈیزائن کے کپڑے پہنے ہوں!
(مستنصر حسین تارڑ)
Friday, October 2, 2015
طنز و مزاح
اکبر الہٰ آبادی کاتبوں کی ’’غلط نوازیوں‘‘ سے بہت دل برداشتہ خاطر رہتے تھے۔
مولانا ظفر الملک علوی (ایڈیٹر ماہنامہ الناظر) کو ایک خط (مطبوعہ الناظر، یکم
جنوری ۱۹۱۰ میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’اپنے مسودار خود نہیں پڑھ سکتا۔ کاتب کو ہدایت میں نہایت دقت ہوتی ہے۔ کاتب
صاحب ایسے ’’ذی استعداد‘‘ ہیں کہ ’’کونسلوں میں سیٹ‘‘ کو ’’گھونسلوں میں بیٹ‘‘ لکھ
دیتے ہیں۔‘‘
Monday, September 28, 2015
چار بیویاں
ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا۔ ’’میں
دیکھ رہا ہوں کہ تم آج کل گھر سے باہر زیادہ وقت گزارتے ہو، آخر کیا وجہ ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں یار! گھر میں چار بیویوں
کی وجہ سے ناک میں دم ہے، اس لئے میں ان ہنگاموں سے بچنے کے لئے گھر میں کم وقت
گزارتا ہوں۔‘‘ دوست نے کہا۔
’’مگر تمہاری تو ابھی شادی بھی نہیں
ہوئی ۔۔۔۔۔۔ پھر یہ بیویاں؟‘‘ اس شخص نے حیران ہوکر کہا۔
’’ارے بھئی یہ دوسروں کی بیویاں ہیں
۔۔۔۔۔۔ ایک میرے دادا کی، ایک میرے باپ، ایک میرے بھائی اور ایک میرے بہنوئی کی۔‘‘
دوست نے منہ بسور کر جواب دیا۔
Monday, September 21, 2015
سچ کی طاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (طنز و مزاح)
ایک صاحب نے دفتر سے فارغ ہوکر اپنی
سیکریٹری کو ساتھ لیا اور ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے۔ وہاں سے دونوں نے فلم
دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ اس کے بعد صاحب سیکریٹری کے ساتھ اس کے گھر بھی چلے گئے۔
رات گئے وہ سیکریٹری کے ہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے اس سے ایک پینسل مانگ کر
اپنے کان پر پھنسالی۔
گھر پہنچے تو بیوی نے تاخیر کی وجہ
پوچھی۔ صاحب نے سب کچھ سچ سچ بتادیا۔
’’جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکواس
۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ بیوی فاتحانہ انداز میں بولی۔ ’’تمہیں تو شو مارنے کی عادت ہے، مجھے
معلوم ہے کہ تم دیر تک دفتر میں کام کرکے آرہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ پینسل ابھی تک تمہارے
کان پر لگی ہوئی ہے۔‘‘
Thursday, September 17, 2015
طنز و مزاح
ایک عامل کا بڑا چرچا تھا کہ وہ روحوں
سے بات کروادیتے ہیں۔ ایک بچہ جو اپنی ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سے محلے بھر میں
مشہور تھا، عامل کے پاس پہنچا اور نذرانہ پیش کرنے کے بعد کہا۔
’’میں اپنے دادا کی روح سے بات کرنا
چاہتا ہوں۔‘‘
اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے جایا گیا
جہاں اگربتیاں جل رہی تھیں۔ چند لمحوں کے بعد ایک بھاری آواز سنائی دی۔ ’’کیوں
آئے ہو برخوردار؟‘‘
قریب سے عامل صاحب کے چیلے نے بچے کو
ٹھوکا دیا۔ ’’یہ تمہارے دادا کی روح بول رہی ہے۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’دادا جان!‘‘ بچے نے سر کھجاتے ہوئے
کہا۔ ’’مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی روح یہاں کیا کررہی ہے جبکہ آپ کا
تو ابھی انتقال بھی نہیں ہواْ‘‘
Wednesday, September 16, 2015
موٹر سائیکل
میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے محبت بڑا بے زبان جذبہ ہے، یعنی اظہار کے لئے زبان کا
محتاج نہیں۔
’’ف‘‘ کہتا ہے میں موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے والے کے انداز سے اس کے چلانے
والے کے ساتھ رشتے کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔
اگر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کے بجائے چلانے والا شرما رہا ہو تو
سمجھ لیں وہ اس کی ’’اہل خانہ‘‘ ہے۔
اور اگر وہ اس طرح بیٹھے ہوں کہ دیکھنے والے شرما رہے ہوں تو سمجھ لیں ’’اہل
کھانا‘‘ ہے۔
موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنا بھی ایک فن ہے۔ خواتین منہ ایک طرف کرکے یوں
بیٹھتی ہیں کہ جیسے ابھی اترنے والی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات بیٹھی ہوئی نہیں بٹھائی
ہوئی لگتی ہیں۔
کچھ خواتین تو خوفزدہ مرغی کی طرح پروں میں کئی بچے چھپائے ہوئے ہوتی ہیں۔
لگتا ہے سفر نہیں “suffer”
کررہی ہیں۔
چند یوں بیٹھی ہوتی ہیں جیسے چلانے والے کی اوٹ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔
بعض تو دور سے کپڑوں کی ایک ڈھیری سی لگتی ہیں۔ جب تک یہ ڈھیری اتر کر چلنے نہ
لگے، پتا نہیں چلتا اس کا منہ کس طرف ہے؟
نئی نویلی دلہن نے خاوند کو پیچھے سے یوں مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا ہے جیسے
ابھی تک اس پر اعتبار نہ ہو۔
جبکہ بوڑھی عورتوں کی گرفت بتاتی ہے کہ انہیں خود پر اعتبار نہیں۔
جب میں کسی شخص کو سائیکل کے پیچھے بیٹھے دیکھتا ہوں جس نے اپنا جیسا انسان
سائیکل میں جوت رکھا ہوتا ہے تو میرے منہ سے بددعا نکلتی ہے۔ مگر جب میں کسی کو
موٹر سائیکل کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چلانے والے پر اعتماد کئے بیٹھے دیکھتا ہوں
تو میرے منہ سے اس کے لئے دعا نکلتی ہے کیونکہ اس سیٹ پر مجھے اپنی پوری قوم بیٹھی
نظر آرہی ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)
Wednesday, September 9, 2015
جاہل
مشہور سائنسدان آئن اسٹائن ایک مرتبہ
بس میں سفر کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے ہینڈ بیگ سے کچھ ضروری کاغذات نکال کر پڑھنا
چاہے تو خیال آیا کہ اپنا چشمہ تو گھر بھول آئے ہیں۔ مجبوراً ساتھ بیٹھے ہوئے
شخص سے کہا۔ ’’ازراہ کرم! ذرا یہ کاغذات پڑھ دیجئے۔‘‘
اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’جناب!
میں بھی آپ کی طرح جاہل ہوں۔‘‘
Tuesday, September 8, 2015
پتنگ بازی
ہم پتنگ بازی کو کھیل مانتے ہیں
کیونکہ بقول یوسفی ’’جہاں کھیل میں دماغ پر زور پڑا، کھیل کھیل نہیں رہتا، کام بن
جاتا ہے۔‘‘ اور پتنگ بازی میں بوجھ دماغ کے بجائے کوٹھے پر پڑتا ہے۔ ہم نے ایک
پتنگ باز سے پوچھا۔
’’یہ پیچ لڑانے کا کیا فائدہ ہوتا
ہے؟‘‘
کہا۔ ’’کلائی مضبوط ہوتی ہے۔‘‘
پوچھا۔ ’’مضبوط کلائی کا فائدہ؟‘‘
کہا۔ ’’پیچ لڑانے میں آسانی ہوتی
ہے۔‘‘
پیچ بھی سیاست کی طرح پرپیچ ہوتے ہیں
مگر پتنگ بازی اور سیاست بازی میں یہ فرق ہے کہ ہمارے ہاں اول الذکر کے لئے ڈور
اور آخر الذکر کے لئے بیک ڈور کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکا اور روس نے خلائی جہازوں
کے ذریعے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کی۔ ابھی وہ خدا تک پہنچنے کے لئے خلائی شٹل کا
سہارا لینے کا منصوبہ بنارہے ہیں جبکہ ہم نے پتنگ بازی میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ
ہر سال بذریعہ ’’پتنگ‘‘ کئی لوگ خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔
(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’جوک در
جوک‘‘ سے اقتباس)
Monday, September 7, 2015
پہلا پتھر
مشتاق احمد یوسفی اپنی کتاب کا مقدمہ لکھتے ہوئے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتے
ہیں۔
نام:
سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
۔خاندان:
سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔
تاریخ پیدائش:
عمر کی اس منزل پر آپہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔
اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
پیشہ:
گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔
اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کرلیتے ہیں۔
پہچان :
قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
۔خاندان:
سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔
تاریخ پیدائش:
عمر کی اس منزل پر آپہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔
اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
پیشہ:
گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔
اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کرلیتے ہیں۔
پہچان :
قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے
مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت
کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔
جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔
حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔
پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
پسند:
غالب، ہاکس بے ، بھنڈی
پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔
پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بربنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔
گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔
چڑ:
جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
مشاغل:
فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
تصانیف:
چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط
کیوں لکھتا ہوں:
ذزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔
جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔
حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔
پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
پسند:
غالب، ہاکس بے ، بھنڈی
پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔
پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بربنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔
گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔
چڑ:
جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
مشاغل:
فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
تصانیف:
چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط
کیوں لکھتا ہوں:
ذزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔
Friday, September 4, 2015
نصیحت
نانی اماں نے منے سے کہا۔ ’’جب تمہیں کھانسی آیا کرے تو
منہ کے آگے ہاتھ رکھ لیا کرو۔‘‘
منے نے کہا۔ ’’نانی اماں! آپ فکر نہ کریں، میرے دانت
آپ کی طرح نقلی نہیں ہیں۔‘‘
Monday, August 31, 2015
وجہ
پھر کوئی پوچھ بیٹھا کہ آپ نے شادی کیوں
نہیں۔۔۔؟
شادی کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ جوانی جہان گردی اور
فیلڈ سروس کی نذر ہوگئی۔ ادھیڑ عمر کا ہوا تو پھر خیال چھوڑ دیا۔ دراصل محبت فقط
نوعمروں کے لیے ہے۔ اس عمر میں ہر چیز خوامخواہ رنگین معلوم ہوتی ہے۔ ہر جذبے میں
بے ساختگی ہوتی ہے اور بلا کا خلوص۔ محبوب ایک دفعہ مسکرا دے تو ہفتے مہینے خوشی
خوشی گزر جاتے ہیں اور یقین ہو جاتا ہے کہ امتحان میں ضرور کامیابی ہوگی، مالی
حالت بہتر ہو جائے گی ، دوست دشمن سب مہربان ہو جائیں گے اور محبوب کی بے رخی سے
سب تہس نہس ہو جائے گا۔ آئرلینڈ کی وہ جھلمل جھلمل کرتی ندیاں ، وہ لہلہاتے کھیت ،
شاداب کنج گھنے جنگل مجھے
اب تک یاد ہیں۔ اگرچہ ان لڑکیوں کے نام اور چہرے یاد نہیں جو ان دنوں میرے ساتھ
ہوا کرتیں ۔ پتہ ہی نہیں چلتاتھا کہ کب بادل آئے تھے اور کب بوندیں تھم گئیں۔
غروبِ آفتاب کے بعد اتنی جلدی چاند کیسے نکل آیا۔۔۔ذرا دیر پہلے گھپ اندھیرا تھا،
دفعتاً یہ روشنی کہاں سے آگئی۔ وہ جگمگاتی صبحیں۔۔۔۔وہ رنگین شامیں ۔۔۔۔وہ مستی کے
شب و روز۔۔۔۔محبت کی اصلی عمر وہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد دکھاوا ہے۔ اگرچہ میں شادی
کے قضیے سے بالکل مبرا ہوں اور تم لڑکوں کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنی کمر پر
زین نہ کسوانا لیکن اگر خدانخواستہ کبھی پھنسنے لگو تو جذبات کے دھارے میں مت بہہ
جانا۔ ایسا چہرہ چننا جس کی کشش اور دلربائی دیرپا ہو۔ شاید تم نہیں جانتے کہ
گزرتے ہوئے ایام چہروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اورمحض دس پندہ سال کا وفقہ
چہروں میں کیسی کیسی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
(شفیق الرحمن کی کتاب دجلہ سے اقتباس)
Saturday, August 29, 2015
ایک سے بڑھ کر ایک
ایک خاتون
نے ناک بھوں چڑھا کر فقیر سے کہا۔ ’’تمہیں بھیک مانگتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ اچھے
خاصے ہٹے کٹے ہو، کہیں محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟‘‘
فقیر نے ان
کا سرتاپا جائزہ لیتے ہوئے ملائمت سے کہا۔ ’’محترمہ آپ ماشا اللہ کافی حسین ہیں،
آپ کی شکل میں کرینہ اور کترینہ دونوں کی مشابہت ہے، جسم بھی ٹھیک ٹھاک ہے، پھر
آپ فلموں میں کام کیوں نہیں کرتیں۔‘‘
Friday, August 14, 2015
شاہی سواری
انہیں اس گھوڑے سے پہلی نظر میں محبت ہوگئی ۔ اور محبت اندھی ہوتی ہے، خواہ
گھوڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔ انہیں یہ تک سجھائی نہ دیا کہ گھوڑے کی مدح میں اساتذہ کے
جو اشعار وہ اوٹ پٹانگ پڑھتے پھرتے تھے، ان کا تعلق تانگے کے گھوڑے سے نہیں تھا۔
یہ مان لینے میں چنداں مضائقہ نہیں کہ گھوڑا شاہی سواری ہے۔ رعبِ شاہی اور شوکتِ
شہانہ کا تصور گھوڑے کے بغیر ادھورا بلکہ آدھا رہ جاتا ہے۔ بادشاہ کے قد میں
گھوڑے کے قد کا اضافہ کیا جائے تب کہیں وہ قدِ آدم نظر آتا ہے لیکن ذرا غور سے
دیکھا جائے تو شاہی سواری میں گھوڑا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس لئے کہ بادشاہوں
اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دلپسند سواری درحقیقت رعایا ہوتی ہے۔ یہ
ایک دفعہ اس پر سواری گانٹھ لیں تو پھر انہیں سامنے کوئی کنواں، کھائی، باڑھ اور
رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ جوشِ شہ زوری و شہ سواری میں نوشتہ دیوار والی دیوار بھی
پھلانگ جاتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار اس وقت تک نہیں پڑھ سکتے جب تک وہ Braille میں نہ لکھا ہو جسے وہ اپنا دربار سمجھتے ہیں،
وہ دراصل ان کا محاصرہ ہوتا ہے جو انہیں یہ سمجھنے سے قاصر رکھتا ہے کہ جس منہ زور
سر شور گھوڑے کو صرف ہنہنانے کی اجازت دے کر بآسانی آگے سے کنٹرول کیا جاسکتا
ہے، اسے وہ پیچھے سے قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ لگام کے بجائے دم
مروڑتا ہے۔ مگر اس بظاہر مسکیں سواری کا اعتبار نہیں کہ یہ ابلق لقاسد ایک چال
نہیں چلتی : اکثر یہ بدرکاب بنی اور بگڑ گئی۔
(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’آبِ گم‘‘ سے اقتباس)
Tuesday, August 11, 2015
بچے
بچوں سے کبھی کبھی نرمی سے بھی پیش
آئیے۔ بچے سوال پوچھیں تو جواب دیجئے مگر اس انداز میں کہ دوبارہ سوال نہ کرسکیں۔
اگر زیادہ تنگ کریں تو کہہ دیجئے جب بڑے ہوگے سب پتا چل جائے گا۔ بچوں کو بھوتوں
سے ڈراتے رہیئے۔ شاید وہ بزرگوں کا ادب کرنے لگیں۔ بچوں کو دلچسپ کتابیں مت پڑھنے
دیجئے کیونکہ کورس کی کتابیں کافی ہیں۔
اگر بچے بیوقوف ہیں تو پروا نہ کیجئے،
بڑے ہوکر یا تو جینئس بنیں گے یا اپنے آپ کو جینئس سمجھنے لگیں گے۔ بچے کو سب کے
سامنے مت ڈانٹیئے۔ اس کے تحت الشعور پر برا اثر پڑے گا۔ ایک طرف لے جاکر تنہائی
میں اس کی خوب تواضع کیجئے۔
بچوں کو پالتے وقت احتیاط کیجئے کہ
ضرورت سے زیادہ نہ پل جائیں ورنہ وہ بہت موٹے ہوجائیں گے اور والدین اور پبلک کے
لئے خطرے کا باعث ہوں گے۔
اگر بچے ضد کرتے ہیں تو آپ بھی ضد
کرنا شروع کردیجئے۔ وہ شرمندہ ہوجائیں گے۔
ماہرین کا اصرار ہے کہ موزوں تربیت کے
لئے بچوں کا تجزیۂ نفسی کرالینا زیادہ مناسب ہوگا۔ دیکھا گیا ہے کہ کنبے میں صرف
دو تین بچے ہوں تو وہ لاڈلے
بنادیئے جاتے ہیں لہٰذا بچے صرف دس بارہ ہونے
چاہئیں تاکہ ایک بھی لاڈلہ نہ بن سکے۔ اسی طرح آخری بچہ سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ
سے بگاڑ دیا جاتا ہے، چنانچہ آخری بچہ نہیں ہونا چاہئے۔
(’’تربیت اطفال‘‘ از شفیق الرحمٰن سے
اقتباس)
Wednesday, July 22, 2015
طنز و مزاح
ایک دفعہ جون ایلیا نے اپنے
بارے میں لکھا کہ میں ناکام شاعر ہوں۔
اس پر مشفق خواجہ نے انہیں
مشورہ دیا۔ ’’جون صاحب! اس قسم کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ یہاں
اہلِ نظر آپ کی دس باتوں سے اختلاف کرنے کے باوجود ایک آدھ بات سے اتفاق بھی
کرسکتے ہیں۔
Wednesday, July 1, 2015
ٹائیں ٹائیں فش
ہر چند کہ ہمارے گھر میں
غربت کا خاصا آنا جانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی ابا نے دل پر جبر کرکے مجھے ایف اے
کرا ہی دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری خواہش تھی کہ میں ایم اے کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابا ایم اے
کی بجائے ’’ایویں‘‘ میں زیادہ خوش تھے۔ میں نے کئی دفعہ ابا سے کہا کہ مجھے کوئی
نوکری کرلینے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابا کا تو پلان ہی کچھ اور تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر دفعہ
جیسے ہی میں نوکری کا ذکر چھیڑتا ۔۔۔۔۔۔۔ ابا کا منہ عالم لوہار جیسا بن جاتا اور
آنکھیں حسن جہانگیر جیسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ مسلسل ساڑھے تین منٹ مجھے پرانے ماڈل
کی نئی گالیاں نکالتے اور بعد میں بڑی عزت سے سمجھاتے کہ ۔۔۔۔۔۔ ’’منحوس! یہ نوکری
وغیرہ کی سوچے گا تو نہ خود کھا سکے گا نہ ہمیں کھلائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے کی سوچ
۔۔۔۔۔۔ آگے کی ۔۔۔۔۔۔۔ میں تیری شادی کسی امیر کبیر لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں تاکہ
تیرے سسرال والے تجھے کاروبار بھی سیٹ کرکے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ان کی بیٹی اور
تیرے والدین دونوں سکھی رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’سبحان اللہ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ ابا
کا پلان سن کر میرے گھٹنوں میں ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے بچا ۔۔۔۔۔۔۔ ’’اے ابا! ۔۔۔۔۔
اتنی امیر لڑکی آخر مجھے ملے گی کیسے ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے طلعت حسین کے انداز میں بڑا
سیریس سوال کیا۔
’’ابے بھری پڑی ہے دنیا
ایسی لڑکیوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس تو دیکھتا جا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کہتا ہے قسمت ہمارے
دروازے پر دستک دینے ہی والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اچانک دروازے پر دستک ہوئی
۔۔۔۔۔!!
میں نے اٹھ کر دیکھا تو
ہمیشہ کی طرح ابا کا کہا سچ پایا ۔۔۔۔۔۔۔ رشتے کرانے والی ’’ماسی قسمت‘‘ اندر داخل
ہورہی تھی۔
(گل نوخیز اختر کے مزاحیہ
ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ سے اقتباس)
Subscribe to:
Posts (Atom)














