Showing posts with label Dr younus butt. Show all posts
Showing posts with label Dr younus butt. Show all posts

Tuesday, June 16, 2015

کچھ مجازی خدا کے بارے میں

میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس دنیا کا سب سے پہلا مہذب جانور کون سا ہے تو میں کہوں گا ’’خاوند‘‘۔ میں نے پوچھا ’’دوسرا مہذب جانور؟‘‘ تو جواب ملا ’’دوسرا خاوند۔‘‘
خاوند کو اردو میں عورت کا مجازی خدا اور پنجابی میں عورت کا بندا کہتے ہیں۔ جبکہ گھر میں اسے کچھ نہیں کہتے۔ جو کچھ کہتا ہے وہی کہتا ہے۔ سارے خاوند ایک جیسے ہوتے ہیں صرف ان کے چہرے مختلف ہوتے ہیں تاکہ ہر کسی کو اپنا اپنا خاوند پہچاننے میں آسانی ہو۔ ہر خاوند یہی کہتا ہے کہ مجھ جیسا دوسرا خاوند پوری دنیا میں نہیں ملے گا اور عورت اسی امید پر دوسری شادی کرتی ہے مگر اسے ہر جگہ کوئی دوسرا نہیں ملتا، خاوند ہی ملتا ہے۔
عورت مرد کا اس دنیا کا سب سے پہلا رشتہ خاوند بیوی ہی کا ہے اور پھر طوفان نوح سے اس دنیا کے ہر جاندار کا صرف یہی رشتہ بچا تھا۔ مختلف ادوار میں انسان ہر براعظم پر مختلف صورتوں میں پایا جاتا رہا لیکن وہ صورت جو ہر دور میں بکثرت ملتی رہی وہ خاوند ہی ہے۔ پھر یہی تو وہ چور دروازہ ہے جس کے رستے انسان مجازی خدا بن جاتا ہے۔ ’’ف‘‘ کہتا ہے انسان شادی خدا بننے کے لئے نہیں باپ بننے کے لئے کرتا ہے۔ شاید اسی لئے ماشا اللہ ’’ف‘‘ کے گھر میں ہر جنس کا بچہ ہے یعنی پورے تین بچے ہیں۔ ویسے میرے خیال میں بیوی کا اصل بچہ تو خاوند ہوتا ہے جو کبھی بڑا نہیں ہوتا۔ مرد دنیا میں دوبار یتیم ہوتا ہے ایک بار جب اس کی ماں فوت ہوتی ہے اور دوسری بار اس وقت جب اس کے بچوں کی ماں فوت ہوتی ہے۔


(’’شیطانیاں‘‘ از ڈاکٹر یونس بٹ سے اقتباس)

Tuesday, May 19, 2015

گلے ملنا

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا، اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللّہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچّے اتنے تھے کے بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا سکول میں آگیا ہے۔ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچّے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن میں 550 گیلن نکالتے۔وہ مجھے بھی اپنے بچّوں کی طرح سمجھتے یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچّوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حلانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کے مسلمان بچّے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچّوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔
کیوں لڑ رہے ہو

ہم چپ ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ” چلو گلے لگ کر صلح کرو “۔ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے لوگوں کو عید ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔
عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔پہلی بار انسان اس دن گلے ملا، جب خُدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے مماز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ 
(ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ” افراتفریح ” سے اقتباس)

Friday, May 15, 2015

عبادت گزار اور چور

صرف عبادت گزار اور چور ہی رات کے بدن میں دھڑک رہے ہوتے ہیں - 

عبادت گزار کے سامنے اس کا مصلیٰ ہوتا ہے اور چور کے سامنے اس کا مسئلہ - 

عبادت گزار اندر کے سفر پر روانہ ہوتا ہے اور چور باہر کے سفر پر نکل پڑتا ہے - 

وہ اپنے جوتے اتار کر بڑا با ادب ہو کر مختلف گھروں میں یوں داخل ہوتا ہے جیسے کسی مقدس مقام کی زیارت کو آیا ہو - 

اگر اس کی آہٹ سے خلق خدا کی نیند میں خلل پڑتا تو وہ شرم کے مارے منہ چھپا کر بھاگ اٹھتا ہے - 

کیونکہ ہر چور جانتا ہے کہ اگر وہ سامنے آگیا تو چور کے رتبے سے گر کر ڈاکو اور لٹیرا بن جائیگا - 

اسی لیے تو جس گاؤں میں چور کا چکر لگ جائے وہاں کے سیانے اس کے پاؤں کے نشان سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں - 

چور اتنا وضعدار اور رکھ رکھاؤ والا ہوتا ہے کہ کچھ مل جائے تو ٹھیک ورنہ چپ چاپ الٹے پاؤں لوٹ جائے گا - 

ظاہر ہے وہ رشتےدار تو ہے نہیں کہ کہے اگر تمہارے پاس کچھ دینے کو نہیں تو کسی سے قرض لے دو - 

(از ڈاکٹر یونس بٹ " شیطانیاں " )

Tuesday, May 12, 2015

شیطانیاں

۔ شاعروں کو ضرور شادی کرنی چاہئے، اگر بیوی اچھی مل گئی تو زندگی اچھی ہوجائے گی اور بیوی اچھی نہ ملی تو شاعری اچھی ہوجائے گی۔
۔ دنیا کی وہ عورت جسے آپ ساری زندگی متاثرنہیں کرسکتے وہ بیوی ہے، اور وہ عورت جسے آپ چند منٹوں میں متاثر کرسکتے ہیں، وہ بھی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر دوسرے کی۔
۔ شاعری، گلوکاری اور اداکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنون لطیفہ میں سے ہے۔
۔ دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں، دوسرے وہ جنہیں لوگ عاشق کہتے ہیں اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں۔
۔ میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے عاشق دراصل ’’آ شک‘‘ ہے کہ وہ اتنا محبوب سے پیار نہیں کرتا جتنا شک کرتا ہے۔
۔ ہمارے ہاں جتنے بھی اچھے عاشق ملتے ہیں وہ کتابوں میں ہیں یا قبرستانوں میں۔
۔ کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو، کیونکہ جو کامیاب ہوجائے وہ عاشق نہیں خاوند کہلاتا ہے، شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنی محبت کے لئے جب کہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لئے۔
۔ کہتے ہیں عاشق خوبصورت نہیں ہوتے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ عاشق نہیں ہوتے، لوگ ان پر عاشق ہوتے ہیں۔
۔ عاشق ، شاعر اور پاگل ان تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔
۔ اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے، جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں۔
۔ میرا دوست ’’ف‘‘ ایک ہی نظر میں عاشق ہوجاتا ہے، کہتا ہے ’’میرے ساتھ کوئی دوشیزہ مخلص نہیں نکلی، جو مخلص نکلی وہ دوشیزہ نہیں نکلی۔‘‘ اس کی کلاس میں تیس لڑکیاں تھیں، ان میں سے ایک لڑکی اس لئے ناراض رہتی کہ وہ اسے توجہ نہ دیتا اور باقی انتیس اس لئے کہ وہ توجہ دیتا۔
۔ شیطان کائنات کا سب سے پہلا صحافی ہے جس نے اللہ تعالی کو خبر دی کہ انسان زمین پر جاکر کیا کرے گا! یہی نہیں وہ پہلا وکیل بھی ہے جس نے آدم کو مشورہ دیا پھل کھالو، پھر کوئی تم سے جنت کا قبضہ نہ لے سکے گا، ہمیشہ کے لئے یہیں رہوگے، اور فیس مشورے میں جنت لے لی۔
اپنی غلطی تسلیم کرنا دراصل خود کو انسان ماننا ہے، کیونکہ وہ صرف شیطان ہے جس نے آج تک اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ شاید اسی لئے ہم بھی آج کل اپنی غلطی نہیں مانتے۔


(ڈاکٹر یونس بٹ ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)

Thursday, March 5, 2015

طنز و مزاح

شیطان سب سے اچھا فرشتہ تھا مگر برا تب بنا جب وہ بول پڑا۔ اسی لئے پیدا ہونے والے بچے فرشتے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بولنا نہیں آتا۔ اور جونہی وہ فرافر بولنے لگتے ہیں ماں باپ کہتے ہیں یہ شیطان ہوگئے ہیں۔

(’’شیطانیاں‘‘ از ڈاکٹر یونس بٹ سے اقتباس)


Sponsored