Showing posts with label wasif ali wasif. Show all posts
Showing posts with label wasif ali wasif. Show all posts

Sunday, May 10, 2015

جو آشنا تھا مجھ سے

جو آشنا تھا مجھ سے بہت دور رہ گیا
جو ساتھ چل رہا تھا، مرا آشنا نہ تھا

(واصف علی واصف)


Thursday, March 19, 2015

بدلے ہوئے حالات سے ڈر جاتا ہوں اکثر

بدلے ہوئے حالات سے ڈر جاتا ہوں اکثر
شیرازۂ ملت ہوں، بکھر جاتا ہوں اکثر
میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر
طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر
میں موت کو پاتا ہوں کبھی زیرِ کفِ پا
ہستی کے گماں سے بھی گزر جاتا ہوں اکثر
مرنے کی گھڑی آئے تو میں زیست کا طالب
جینے کا تقاضا ہو تو مرجاتا ہوں اکثر
رہتا ہوں اکیلا میں بھری دنیا میں واصف
لے نام مرا کوئی تو ڈر جاتا ہوں اکثر

(واصف علی واصف)

Sponsored