Showing posts with label shagufta shafiq. Show all posts
Showing posts with label shagufta shafiq. Show all posts

Monday, April 20, 2015

ہجر کے عذاب

ملتے رہے ہیں ہم کو یہاں ہجر کے عذاب
پر دیکھتے ہیں آج بھی ہم زندگی کے خواب

(شگفتہ شفیق)


Wednesday, March 18, 2015

کہ باز آید پشیمانی

کہ باز آید پشیمانی
جب ہوئے وہ
تہی داماں
ان کا یہ خیال آیا
زندگی کے کرنے کو
زندگی کو برتنے کو
الفتیں ضروری ہیں
پر خاک ہوگئی تھیں
محبتیں تب تک

(شگفتہ شفیق)


Tuesday, March 17, 2015

پل بھر میں آنکھ موند لیں دنیا کو چھوڑ دیں

الفت کے باب کا صفحہ چپکے سے موڑ دیں
اتنی نہیں انا کہ محبت کو چھوڑ دیں
میرے حبیب تیرا اشارہ کبھی جو ہو
پل بھر میں آنکھ موند لیں دنیا کو چھوڑ دیں

(شگفتہ شفیق)


Sponsored