Showing posts with label mustafa zaidi poetry. Show all posts
Showing posts with label mustafa zaidi poetry. Show all posts

Friday, August 14, 2015

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
دل جس سے مل گیا تھا دوبارہ نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
قدموں کو شوقِ آبلہ پائی تو مل گیا
لیکن بہ ظرفِ وسعت صحرا نہیں ملا
کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود روئیدگی
چاکِ قبا کو دستِ زلیخا نہیں ملا
مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو
تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا

(مصطفیٰ زیدی)

Monday, May 4, 2015

تمہیں تو خیر مرے غم کدے سے جانا تھا

تمہیں تو خیر مرے غم کدے سے جانا تھا
کہاں گئیں مری نیندیں کدھر گئے میرے خواب
میں تشنہِ کامِ غمِ آگہی کہاں جاؤں
اِدھر شعور کا صحرا اُدھر نظر کا سراب

(مصطفیٰ زیدی)


Sponsored