Showing posts with label muneer niazi poetry. Show all posts
Showing posts with label muneer niazi poetry. Show all posts

Monday, October 26, 2015

وہ جو پاس آکے یونہی چپ سا کھڑا رہتا تھا

وہ جو پاس آکے یونہی چپ سا کھڑا رہتا تھا
اُس کی تو خُو تھی یہی، تم ہی بلاتے اُس کو
(منیر نیازی)

poetry, urdu poetry, muneer niazi poetry, wo jo paas aakay yonhi chup sa khara rehta tha

Friday, September 18, 2015

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آکے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

(منیر نیازی)


Monday, August 31, 2015

کھِلتا تھا کبھی جس میں تمنا کا شگوفہ

کھِلتا تھا کبھی جس میں تمنا کا شگوفہ
کھڑکی وہ بڑی دیر سے ویران پڑی ہے

(منیر نیازی)


Tuesday, May 19, 2015

میں ہوں بھی، اور نہیں بھی، عجیب بات ہے

میں ہوں بھی، اور نہیں بھی، عجیب بات ہے
یہ کیسا جبر ہے، میں کس کے اختیار میں ہوں؟

(منیر نیازی)


Sunday, April 19, 2015

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا
راہبر میرا بنا گمراہ کرنے کے لئے
مجھ کو سیدھے راستے سے دربدر اس نے کیا
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نامعتبر اس نے کیا
شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا



Sponsored