Showing posts with label muneer niazi. Show all posts
Showing posts with label muneer niazi. Show all posts

Saturday, April 25, 2015

تم ہی بلاتے اس کو

وہ جو پاس آکے یونہی چپ سا کھڑا رہتا تھا
اُس کی تو خُو تھی یہی، تم ہی بلاتے اُس کو



Monday, April 13, 2015

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے
کہنے کو تو اپنے دل میں کوئی داستاں تو ہے
یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے
اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیر
پردہ سا کوئی میرے تیرے درمیاں تو ہے

(منیر نیازی)


Friday, April 10, 2015

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں، جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لئے وہاں
شام آگئی ہے، لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا



Friday, April 3, 2015

جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا

بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنالی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا



Sponsored