Showing posts with label javed akhtar poetry. Show all posts
Showing posts with label javed akhtar poetry. Show all posts

Tuesday, July 21, 2015

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
برس کے کھُل گئے آنسو، نتھر گئی ہے فضا
چمک رہا ہے سرِ شام درد کا تارا
کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا، اک امانت ہے
مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا
جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی
کُھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا
وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں
مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اُس کو گر نہ پھنکارا

(جاوید اختر)


Thursday, April 16, 2015

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ
آج پھر دل نے اک تمنا کی
آج پھر دل کو ہم نے سمجھایا
تم چلے جاؤ گے تو سوچیں گے
ہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا
ہم جسے گنگنا نہیں سکتے
وقت نے ایسا گیت کیوں گایا

(جاوید اختر)



Sponsored