Showing posts with label bano qudsia. Show all posts
Showing posts with label bano qudsia. Show all posts

Thursday, April 23, 2015

عورت کی طاقت

بانو قدسیہ نے اپنی تحریروں میں روزمرہ کی زندگی کی باتیں بہت اچھی طرح سے بیان کی ہیں۔
ان کے مطابق آج کل کی عورت نے گھرداری اور ماں ہونے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس سب کا ذمہ دار مرد ہے جس نے عورت کو اس کے گھر، جو کہ اس کا مضبوط قلعہ ہے، سے باہر نکالنے کے لئے سازش کی ہے۔ آدمی نے عورت کو ایک اچھے لائف اسٹائل اور اونچے معیار کے خواب دکھائے ہیں اور ان کے حصول کے لئے یہ طریقہ بتایا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر محنت کرے اور اپنے لئے ایک اچھا لائف اسٹائل حاصل کرے۔ خواتین نے اس سے یہ بات سمجھی کہ انہیں آزادی مل رہی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ مزدوری کے لئے مجبور ہوگئی ہیں اور اپنے کھانے کے لئے بھی انہیں خود ہی محنت کرنی پڑرہی ہے۔
وہ اس عورت کی مثال دیتی ہیں جو اپنے گھر کے کام کرتی ہے، برتن دھوتی ہے اور کھانا بناتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ عورت ایک ماڈرن عورت سے زیادہ خودمختار ہے۔ اس کا واحد مسئلہ غربت ہے لیکن اس کو ایک جدید عورت کی طرح اپنے آپ کو منوانے کے لئے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ اس کا وجود ہی اس کی شناخت ہے۔ اس اپنے آپ کو منوانے کی جدوجہد کی وجہ سے عورت کی نرمی اور نزاکت ختم ہوتی جارہی ہے جو عورت کی اصل طاقت ہے اور جس کو وہ اپنی سب سے بڑی کمزوری سمجھتی ہے۔

Wednesday, March 25, 2015

محبت کا روپ

محبت نفرت کا سیدھا سادہ شیطانی روپ ہے۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمروعیار ہے۔ہمیشہ دوراہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ محبت ہی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہں ہوتی، ہمیشہ عمر قید ہو تی ہے۔
محبت کا مزاج ھوا کی طرح ہے۔کہیں ٹکتا نہیں، محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے۔جب تک اس کی تصویر میں رنگ نہ بھرو تصویر فیڈ ہو جاتی ہے۔
روز سو رج نہ چڑ ھے تو دن نہیں ہوتا، اسی طرح جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو ،رات رہتی ہے۔

Friday, February 27, 2015

انسانوں کی نفسیات

روح کو محبت صرف اس وقت ہوتی ہے جب انسانوں کی نفسیات ایک دوسرے کی تلاش میں نکلتی ہے۔ ایسی صورت میں نہ وصل میں بوریت ہوتی ہے، نہ ہجر میں اشتیاق۔

(بانو قدسیہ کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے اقتباس)


Sponsored