Showing posts with label ahmed nadeem qasmi poetry. Show all posts
Showing posts with label ahmed nadeem qasmi poetry. Show all posts

Monday, August 10, 2015

دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا

دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں
اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں

(احمد ندیم قاسمی)


Friday, July 10, 2015

جب ترا حکم ملا ترکِ محبت کردی

جب ترا حکم ملا ترکِ محبت کردی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کردی
تجھ سے کس طرح میں اظہار محبت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کردی

(احمد ندیم قاسمی)


خدا کرے میری ارض پاک پر اترے

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

(احمد ندیم قاسمی)


Sponsored