Showing posts with label ahmed nadeem qasmi. Show all posts
Showing posts with label ahmed nadeem qasmi. Show all posts

Monday, April 6, 2015

بدن آزاد ہے

بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہوکر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

(احمد ندیم قاسمی)


Thursday, February 19, 2015

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف ایک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایہ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیمانِ وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا، مرجاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو ڈوبے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کرجاؤں گا



Sponsored