Showing posts with label amjad islam amjad. Show all posts
Showing posts with label amjad islam amjad. Show all posts

Thursday, March 5, 2015

گزرے ہیں ترے بعد بھی کچھ لوگ اِدھر سے

گزرے ہیں ترے بعد بھی کچھ لوگ اِدھر سے
لیکن تیری خوشبو نہ گئی، راہ گزر سے

(امجد اسلام امجد)


Saturday, February 28, 2015

شاید کسی لکیر میں لکھا ہو میرا نام

شاید کسی لکیر میں لکھا ہو میرا نام
اے دوست اپنا ہاتھ مجھے دیکھنے تو دے

(امجد اسلام امجد)


Wednesday, February 18, 2015

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے
سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں
پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کو
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے
سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل
طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے
یہ بستی ہے ستم پروردگاں کی
یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے
کنارا دوسرا دریا کا جیسے
وہ ساتھی ہے مگر محرم نہیں ہے
دلوں کی روشنی بجھنے نہ دینا
وجودِ تیرگی محکم نہیں ہے
میں تم کو چاہ کر پچھتا رہا ہوں
کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے
جو کوئی سن سکے امجد تو دنیا
بجز اک بازگشتِ غم نہیں ہے


Sponsored