Monday, May 11, 2015

ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے
نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے
کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے
مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقب
کنارے پہ آہی گئی بہتے بہتے
(ثاقب لکھنوی)

 

No comments:

Post a Comment

Sponsored